خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 258
خطبات ناصر جلد نہم ۲۵۸ خطبہ جمعہ ۱۱ ستمبر ۱۹۸۱ء عَذَابَ يَوْمٍ عَظِیمٍ (الانعام (۱۶) اگر میں قرآن کریم کی وحی کے خلاف کوئی بات کروں اور خدا تعالیٰ کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تو ایسا ممکن نہیں تھا۔آپ تو دوسروں کو جنت میں لے جانے والے ہیں لیکن دوسروں کے لئے ایسا ممکن تھا اس لئے یہ اعلان کروایا جیسا کہ آج کل دنیا کے مختلف حصوں میں اس قسم کی باتیں کی جاتی ہیں جو ہمارے کانوں میں پڑتی ہیں۔اور جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے والے ہیں، جو قرآن کریم کی وحی کو قول اور فعل سے سچا ثابت کرنے والے ہیں، اس پر عمل کرنے والے ہیں، جو یہ اعلان کرنے والے ہیں کہ ہم تو خدا کے عذاب سے ڈرتے ہیں ہم ایک ذرہ بھر بھی اس میں کوئی تبدیلی نہیں پیدا کر سکتے۔مثلاً پاکستان سے باہر کسی ملک میں نام نہیں میں لوں گا۔فتنہ پیدا ہوتا ہے ) ایک جگہ یہ فتویٰ دے دیا کہ شراب جو ہے وہ تو گرم ملک میں حرام کی گئی تھی ، ٹھنڈے ملکوں میں بے شک پی لیا کرو۔حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہلوایا گیا تھا اِنّی اَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ حالانکہ شراب کے متعلق رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطن (المائدة: 91) کا اعلان کیا گیا تھا کہ ایک گند کی چیز ہے اور اس کا پینا شیطانی عمل ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو کوثر عطا کیا۔اتنے جاں ثار فدائی جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالیٰ کے پیار جو پیار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل آپ نے حاصل کیا تھا انتہائی اذیتیں قبول کیں لیکن صبر اور استقامت کی راہوں کو نہیں چھوڑا۔ہر چیز خدا اور اس کے رسول کے لئے قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے لیکن خدا اور رسول کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔قرآن کریم کو سینے سے لگایا۔اس کا ایک ذرہ بھر بھی یہ برداشت نہیں کیا کہ ان کے سینوں سے کوئی ورق پھاڑ کر اس کو پرے پھینک دیا جائے یعنی پورے کا پورا قرآن انہوں نے اپنے سینوں سے لگائے رکھا۔جن کے متعلق قرآن کریم نے ایک دوسری جگہ ( جو میرے یہاں نوٹ میں نہیں ہے ) کہا ہے اُولبِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا (الانفال: ۵) حقیقی مومن ہیں وہ اور ان کے متعلق سن لو اور خدا کرے کہ تمہارے دل میں یہ خواہش پیدا ہو کہ تم