خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 259 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 259

خطبات ناصر جلد نہم ۲۵۹ خطبہ جمعہ ۱۱ارستمبر ۱۹۸۱ء بھی ایسے ہی مومن بنو۔سورۃ انفال ( آیت:۶۵) میں یہ اعلان ہوا یا يُّهَا النَّبِيُّ اے النَّبِيِّ، اے الرَّسُول ، الاقي محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہم کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا یا يُّهَا النَّبِی۔اے النبی ! حَسْبُكَ اللهُ سوائے خدا کے تجھے کسی اور کی ضرورت نہیں ہے۔خدا تیرے لئے کافی ہے اور خدا تعالیٰ کے علاوہ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وہ مومنین خدا نے تیرے لئے کافی بنا دیئے ہیں جنہوں نے ہمارے حکم کے مطابق تجھے اُسوہ سمجھا اور تیری اتباع کی اور کامل مومن بن گئے۔تو اس آیت میں جس جس گروہ مومنین کا ذکر ہے ویسے مومن بننے کی احمدیوں کو کوشش کرنی چاہیے۔وَمَن اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ بڑا عظیم اعلان ہے۔بہت بڑی عظمت کو ان جاں نثاروں کی ثابت کیا گیا اور اس کا اعلان کیا گیا حَسْبُكَ اللهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ خدا تیرے لئے کافی ، خدا کے علاوہ مجھے اور کسی کی ضرورت نہیں اور جو کامل تیرے متبع بن گئے کامل طور پر اور تجھ میں فانی ہو گئے اور اپنے وجود کو تیرے وجود میں کھو دیا اور خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دیا، تیرے کامل متبع ہو گئے اس معنی میں جس معنی میں لفظ اتباع محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے استعمال کیا گیا ہے قرآن کریم میں، ویسے مومن تیرے لئے کافی ہیں۔وہ جب تین تھے ( تاریخ پر اب ہم نظر ڈالتے ہیں) اس وقت وہ تین کافی تھے، چوتھے آدمی کی مدد کی آپ کو ضرورت نہیں تھی۔جب نتوا ہوئے وہ سو کافی تھے، ایک لسنوا ایکویں کی ضرورت نہیں تھی۔جس وقت دنیا اکٹھی ہوگئی تو دو چار ہزار کافی ہو گئے۔میں نے مشاہدہ کیا اور غور کیا اور یہ واقعات پڑھے جو جنگیں ہوئی ہیں کسری اور قیصر کے ساتھ ، اصل جو اسلام کے لئے کافی ہوئے اس اعلان کے بعد، وہ وہ Hard Core (ہارڈ کور ) مومن تھے ، وہ فدائی جو جاں نثار تھے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور باقی تو پروانے تھے جو ان شمعوں کے گرد، انہیں کی بدولت ثبات قدم بھی دکھاتے تھے ، پیچھے ہٹتے تھے پھر آگے بھی بڑھ جاتے تھے ان کی بدولت۔تو حَسْبُكَ اللهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ یہ اعلان بھی ہے۔یہ بشارت بھی ہے۔یہ تاریخی حقیقت بھی ہے۔یہ ایک وعدہ بھی ہے اگلوں کے لئے۔اگلوں کو اکسانے کے لئے ایک کوڑا بھی ہے پیار کا۔کوڑا لگاتے ہیں نا ایسا تیز ہو جائے گھوڑا۔تو گھوڑے کو غصے میں تو سوار کوڑا نہیں