خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 229 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 229

خطبات ناصر جلد نهم ۲۲۹ خطبه جمعه ۲۱/اگست ۱۹۸۱ء معراج میں آپ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی صرف چھٹے آسمان پر دیکھا تو ان کی امت چھٹے آسمان سے اوپر نہیں جاسکتی۔چھٹے آسمان سے اوپر ان کی اُمت کا کوئی فرد نہیں جا سکتا تھا۔جن کا نبی متبوع اس مقام سے اوپر نہیں گیا اس کے ماننے والے، اس کے متبعین کے لئے ممکن ہی نہیں ہے اپنے نبی متبوع سے او پر نکل جانا۔لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام، معراج کا جو تجربہ تھا، مشاہدہ تھا، اس میں ساتویں آسمان سے بھی اوپر عرش رب کریم پر پہنچایا گیا آپ کو۔اُمت کو بشارت دی ہے کہ پہلی قوموں کے انبیاء اپنی امت کو ، اپنے ایمان لانے والے مخلص صحیح معنی میں سچے مومن جو تھے ان کو چھٹے آسمان سے او پر نہیں لے جاسکتے تھے۔جوان کے قدموں میں بھی بیٹھا ( کامل اس نے پیروی کی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وہ آپ کے قدموں میں آ کے بیٹھانا ) وہ چھٹے آسمان تک پہنچ سکا لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل متبع چھٹے آسمان سے اوپر جا کر ساتویں آسمان کے اوپر کے حصے میں ، جہاں، جو بھی روحانی درجہ ( وہ لمبا مضمون ہے، اس میں میں اس وقت نہیں جاؤں گا ) عرشِ ربّ کریم جو بھی چیز ہے، اس کے اس عرش کے قدموں کے نیچے بیٹھا ہوا ہے وہ اور کم از کم ایک آسمان کا فاصلہ ہے۔وہ رفعتوں کے لحاظ سے زیادہ ہوگا۔یہ عظمت ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو وہ لے کے آئے مومنین کے لئے جن سے مومنوں نے (یہاں مخاطب ہی مومن ہیں ) فائدہ اٹھایا۔دوسری چیز آپ یہ لے کے آئے ویزکیھم - يُزگی میں بہت سا را ابہام لوگوں نے پیدا کر لیا۔ابہام کوئی نہیں۔آپ ایسی تعلیم لے کے آئے جو طہارت اور پاکیزگی پیدا کرنے والی ہے۔طہارت اور پاکیزگی کا معیار تسلیم کرنا یا مقرر کرنا یہ انسان کا کام نہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔اس واسطے صحیح معنی ہیں اور بچے طور پر منی پاک کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔آپ ایسی تعلیم لے کے آئے۔يَتْلُوا عَلَيْهِمُ التِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ یہ چار چیزیں ہیں۔اس کے نتیجہ میں اور شریعت کے اوپر جو عمل کرنا ہے اس کے نتیجے میں امت محمدیہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کے اور امت مسلمہ کے مومنین کی جو جماعت صدیوں میں پیدا ہوئی اور گزری ان کے لئے یہ ممکن کر دیا کہ خدا کی نگاہ میں وہ پاک اور مطہر ہو جائیں اور سارے وعدے