خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 195 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 195

خطبات ناصر جلد نهم ۱۹۵ خطبہ جمعہ ۱۷ جولائی ۱۹۸۱ء نے یہ اعلان کیا کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (اللہ ریت : ۵۷ ) میں نے تمہیں پیدا ہی اس غرض سے کیا ہے کہ تم میرے قرب کو حاصل کرو اور میری صفات اور اخلاق کا رنگ اپنے اخلاق کے اوپر چڑھاؤ۔اور پھر یہ کہا کہ بہت سے لوگوں کے لئے خصوصاً ابتدا میں یہ محض ایک علمی اور تحقیقی بحث ہو گی لیکن تمہارے سامنے ایک عظیم نمونہ ، اُسوہ میں نے رکھ دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ، جس زندگی میں ہمیں اللہ تعالیٰ کی عظمتوں کے، اس کے جلال کے، اس کی صفات کے زندہ نمونے نظر آتے ہیں اور ہمیں کہا وہ نقشِ قدم تمہارے سامنے ہیں ان نقوشِ قدم کو Follow کرو، ان کے پیچھے چلو، ان کی اتباع کرو تم بھی وہیں پہنچ جاؤ گے جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پہنچ گئے۔تو رمضان کا تعلق یا قرآن کریم کا تعلق رمضان سے ہے اور قرآن کریم اللہ تعالیٰ کے بندوں کی جو عاجزی ہے اور تواضع ہے اس میں زیادتی پیدا کرنے کے سامان پیدا کرتا ہے اور ہماری روحانی ترقی کے لئے عجز و انکسار کا پایا جانا ہماری فطرت میں اور اس کی کامل نشوونما ہونا ضروری ہے۔اس لئے کہ ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ جب تک تم اللہ تعالیٰ کے اوامر ونواہی کو مضبوطی سے پکڑو گے نہیں ، جو کہتا ہے وہ کرو گے نہیں ، جس سے روکتا ہے اس سے باز نہیں آؤ گے اور دعا اور وہ دعا جس کو صلوۃ کے لفظ میں یاد کیا گیا ہے اس کے ذریعے سے میرے فضل اور رحمت کو جذب نہیں کرو گے تم میرے قرب کو حاصل نہیں کر سکتے۔سورۃ بقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة (البقرة : ۴۶) اور صبر اور دعا کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو۔بہت جگہ اور بھی آیا ہے۔اس آیت کا انتخاب میں نے اس لئے کیا کہ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ صبر وصلوٰۃ کے بغیر کوئی استعانت ، مدد نہیں مل سکتی ، اس کی رحمت اور اس کا فضل اور اس کی برکتیں تمہیں حاصل نہیں ہوسکتیں اور صبر اور صلوۃ ، عجز اور انکساری کی بنیادوں کے اوپر اٹھتے ہیں۔وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةُ إِلَّا عَلَى الْخَشِعِينَ (البقرة : ۴۶) اور بے شک فروتنی اختیار کرنے والوں کے سوا دوسروں کے لئے یہ امر مشکل ہے یعنی جو فروتنی کرنے والے ہیں صرف ان کے لئے یہ مشکل نہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے اور اس کی ہدایت کے مطابق صبر اور صلوٰۃ پر کار بند ہوں۔