خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 161
خطبات ناصر جلد نهم 171 خطبہ جمعہ ۲۶ جون ۱۹۸۱ء ہدایات کے مطابق جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں دی ہیں۔قرآن کریم نے شہر رمضان کی جو خصوصیات اور ذمہ داریاں ہیں وہ بیان کر دی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر عمل کر کے وضاحت کے ساتھ ہمارے سامنے عملی تفسیر ان آیات کی رکھ دی ہے۔میں نے جو طریق اس وقت منتخب کیا ہے وہ یہ نہیں کہ میں ان آیات کی تفسیر کروں بلکہ اس میں سے میں نے بارہ Points (پوائنٹس) اٹھائے ہیں اور وہ یہ ہیں۔،، نمبر ایک یہ کہ روزہ رکھنا ہر اس شخص کے لئے ضروری ہے، ہر اس احمدی کے لئے ضروری ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے روزہ رکھنا ضروری قرار دیا ہے۔بعض آسانیاں پیدا کیں اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر بعد میں آئے گا لیکن کسی احمدی کی ” و ”بہانہ جو نہیں ہونی چاہیے کہ بہانہ ڈھونڈ کے روزوں سے بچنے کی راہ کو اختیار کرے۔روزہ فرض ہے روزہ رکھنا ہر اس احمدی پر جس کو رکھنا چاہیے فرض ہے اور ضروری ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو اس کی سزا مقرر کی نہ رکھنے کی، اس کے حکم توڑنے کی ، وہ کوئی دنیوی سزا نہیں ہے اور یہ یادرکھیں کہ دنیا کی کوئی سزا اللہ تعالیٰ کی سزا کا کفارہ نہیں بن سکتی کہ آپ سمجھیں کہ دنیا میں چونکہ انسان کی بنائی ہوئی سزا مل گئی اس لئے کفارہ ہو جائے گی۔قرآن کریم میں بعض ایسی سزاؤں کا ذکر ہے جو کفارہ بن جاتی ہیں۔تفصیل میں اس وقت نہیں جاؤں گا۔ابھی یہ مضمون چلے گا انشاء اللہ تعالیٰ پھر موقع ہوا تو اس کو بھی بتا دوں گا۔بہر حال خدا تعالیٰ کا یہ حکم توڑ نا کہ خدا کہے کہ اے فرد واحد، ( ہر فرد کو مخاطب کیا ہے قرآن کریم نے ) اے احمدی! تجھ پر روزہ فرض ہے کیونکہ فرض کی جو شرائط ہیں وہ تیرے وجود میں ، تیری ذات میں تیری زندگی میں پوری ہوتی ہیں اور پھر وہ خدا تعالیٰ کے اس حکم کو توڑے تو خدا تعالیٰ کی سزا کا عذاب کا وہ مستحق ، ٹھہرے گا اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اور دُنیوی کوئی سزا بطور کفارہ کے اس کے لئے نہیں بن سکتی کہ انسان کی سزا خدا تعالیٰ کی سزا سے اسے بچالے۔قرآن کریم ، قرآن حکیم ہے دلیل دیتا اور ہمیں سمجھا تا ہے کہ جو میرا حکم ہے اس پر کیوں عمل کرو۔تو یہاں دو چیزوں کی طرف اشارہ کیا گیا۔ایک یہ کہ اخلاقی بیماریاں ہیں بہت سی ، روزہ ان سے بچا تا ہے کیونکہ پاکیزگی پیدا کرتا اور خدا تعالیٰ کے قرب کی راہیں کھولتا ہے اور جن پر اللہ تعالیٰ