خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 145 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 145

خطبات ناصر جلد نہم ۱۴۵ خطبہ جمعہ ۱۹ / جون ۱۹۸۱ء غمگین ہوں گے کیونکہ ان کے پچھلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اور مستقبل الہی بشارات کی خوشیوں سے معمور ہوگا۔مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ انشراح صدر سے اسلام کا اعلان کیا کہ اسلام کی ذمہ داریاں میں قبول کرتا ہوں اس کی تشریح اللہ تعالیٰ نے سورہ انعام کی ان آیات میں کی۔قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ - لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ - قُلْ اَغَيْرَ اللهِ أَبْغِى رَبَّا وَ هُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ - (الانعام: ۱۶۳ تا ۱۶۵) اس سے پہلے کی آیت میں جو میں نے نہیں پڑھی ایک ٹکڑا یہ ہے قُلْ إِنَّنِي هَد نِی رَبّي إلى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ (الانعام : ۱۶۲) میرے رب نے صراط مستقیم کی طرف میری ہدایت کر دی اور انشراح صدر مجھے پیدا ہو گیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لئے ہیں۔جو تمام جہانوں کا رب ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اس امر کا حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلے فرمانبردار ہوں۔تو کہہ کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کو رب بناؤں؟ یا رب سمجھوں؟ حالانکہ وہ ہر ایک چیز کی پرورش کرنے والا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔اس آیت کا سچا مصداق ہو تب مسلمان کہلائے گا۔یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قُلْ اِنَّ صَلاتی تدبیریں دو قسم کی ہیں ایک دعا کے ساتھ تدبیر دوسرے مادی دنیا کی تدبیریں ہیں عمل ہے، منصوبے بنانے ہیں، ان کے اوپر چلنا ہے، ماحول ایسا پیدا کرنا ہے، گھر میں دین کی باتیں کرنی ہیں، بچوں کی ہدایت کے لئے کوشش کرنی ہے، ان کے دل میں خدا اور رسول کا پیار پیدا کرنا ہے۔ان کے کان میں دین کی باتیں ڈالنی ہیں، قرآن کریم سننا ہے ان سے، پڑھانا ہے ان کو وغیرہ وغیرہ ہزار قسم کی تدبیر کی جاتی ہے۔پہلی تدبیر تو صلاتی ہے کہ میری دعا جو ہے وہ ساری کی ساری للہ “ اللہ کی رضا کے حصول کے لئے اور اس کے قرب کو پانے کے لئے ہے اور میری کوشش اور تد بیر بھی اسی راہ پر گامزن ہے۔(محیائی ) انسانی زندگی کسی ایک ٹھوس چھوٹی سی چیز کا نام نہیں۔ستر سالہ زندگی میں بلوغت کے بعد سترہ، اٹھارہ سال کے بعد چلو میں سال ۱۷