خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 129 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 129

خطبات ناصر جلد نهم ۱۲۹ خطبه جمعه ۵/جون ۱۹۸۱ء بیزار ہوجاتا ہے اور اس سے نفرت کرنے لگتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کے اوپر اپنی لعنت بھیجتا ہے اور وہ بیزاری کا اور نفرت کا اعلان کرتا، اور وہ ایسا ہی سلوک کرتا ہے جو ایسے شخص سے کیا جا سکتا ہے یا کیا جانا چاہیے جس سے اللہ تعالیٰ بیزار ہوا اور متنفر ہو۔دوسرے اس کے معنے ہیں بعد اور دوری کے کہ وہ خدا کا بندہ جسے خدا تعالیٰ نے بندہ بننے کے لئے پیدا کیا تھا، وہ قرب کی راہوں کو اختیار کرنے کی بجائے ، دوری کی راہوں کو اختیار کرتا اور اپنے اور پیار کرنے والے رب کے درمیان بُعد اور فاصلے ڈال دیتا ہے۔تب خدا تعالیٰ کہتا ہے میں بھی تجھ سے دور ہو گیا اور مقربانِ الہی کے لئے جو وعدے ہیں ، وہ تیرے حق میں پورے نہیں ہوں گے۔اور تیسرے یہ کہ اپنی دشمنی کا اعلان کرتا ہے۔میں تمہارا دشمن ہوں اور دشمن ، دشمن سے جو کرتا ہے۔انسان، انسان کی اگر دشمنی ہو تو بہت سی روکیں ہیں ایک دشمنی کی راہ میں اپنی دشمنی کے منصوبوں کو کامیاب کرنے کے لئے لیکن اللہ تعالیٰ کی راہ میں تو کوئی دشواری نہیں۔پس اللہ تعالیٰ کہتا ہے میں تم سے دشمنی کروں گا۔تمہارے سارے منصوبے جو میرے بندوں کے خلاف ہوں گے انہیں نا کام کر دوں گا۔خدا تعالیٰ سے تو کوئی دشمنی نہیں کرسکتا۔نہ خدا تعالیٰ کی ذات کو کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے۔آخر میں ذکر تو اس کے بندوں کا ہی آجا تا ہے۔پہلا یہ کہ تمہارے سارے منصوبے جو تم میرے بندوں کے خلاف کرو گے، انہیں نا کام کر دوں گا اور وہ سارے منصوبے جو تم اپنے فائدہ کے لئے اور ترقیات کے لئے کرو گے، ان کو بھی نا کام کروں گا۔میں مختصراً چند پہلو بیان کروں گا۔ایک یہ اعلان کیا گیا ہے وَمَا دُعَاءُ الْكَفِرِينَ إلا في ضَلل (الرعد : ۱۵) کہ کافروں کی دعا اس زندگی میں اور ان کی جو چیخ و پکار قیامت کے روز ہوگی ، وہ قبول نہیں کی جائے گی۔اس زندگی میں قبولیت دعا کا نشان انہیں نہیں ملے گا۔استثنائی طور پر اس ورلی زندگی میں خدا تعالیٰ ہر قسم کے انسان کی دعا سنتا ہے تا کہ اس کی اصلاح کا دروازہ کھلا رہے اور وہ اپنے رب کو پہچان لے۔وہ اور چیز ہے۔ایک شخص کی ستر سالہ پچھتر سالہ اسی سالہ زندگی میں ایک دعا کا