خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 124
خطبات ناصر جلد نهم ۱۲۴ خطبه جمعه ۲۹ مئی ۱۹۸۱ء وہ یہ ہے مولا بس۔وہ یہ ہے وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَهُوَ حَسْبُهُ (الطلاق: ۴) کہ جو خدا پر توکل کرنے کا دعویٰ کرے یہ دعوی مطالبہ کرتا ہے کہ وہ یہ سمجھے اور یقین رکھے کہ خدا تعالیٰ اس کے لئے کافی ہے۔اگر میں اس خطبے کو لمبا کرتا تو میں بعض اللہ تعالیٰ نے جو اس گروہ کے لئے وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمُ بِمَا اَنْزَلَ الله سزائیں تجویز کی ہیں ان کا ذکر کرتا لیکن وہ ایک لمبا مضمون ہے آپ کے سوچنے کے لئے یہ بتا دیتا ہوں کہ میں نے مثلاً قرآن کریم پڑھا ہوا ہے، جہنم ہے ان کی سزا ، آگ ہے ان کی سزا اور پھر بہت ساری تفصیل اس جہنم کی وہ بھی ہے لیکن اپنے جس مضمون جو اصل مضمون جب میں ختم کروں گا اس کے لحاظ سے میں نے بعض سزائیں منتخب کی ہیں۔ساری نہیں قرآن کریم کی لیں۔قرآن کریم نے تو کھول کے جھنجھوڑ کے رکھ دیا کا فر ، فاسق اور ظالم کو لیکن جو میرے نزدیک بڑی سخت اور جس نتیجہ پر انشاء اللہ تعالیٰ میں پہنچنا چاہتا ہوں اور آپ بھی پہنچ جائیں گے اس سے تعلق رکھنے والی ہیں وہ میں نے لی ہیں۔ان میں سے ایک کو آج میں لیتا ہوں اور وہ ہے لعنت۔لعنت کے نتیجہ میں جہنم ہے۔لعنت جہنم کا نام نہیں ہے۔عربی زبان میں لعنت کے جو معنی ہیں اور جس پر روشنی ڈالی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لغوی لحاظ سے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں لعنت ایک ایسا مفہوم ہے جو شخص ملعون کے دل سے تعلق رکھتا ہے اور کسی شخص کو اس وقت لعنتی کہا جاتا ہے جب کہ اس کا دل خدا سے بالکل برگشتہ اور اس کا دشمن ہو جائے اور اس بات کو کون نہیں جانتا کہ لعنت قرب کے مقام سے رد کرنے کو کہتے ہیں۔تو جب کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی لعنت پڑی اس پر تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے قرب کے مقام سے اسے رد کر دیا۔تو ایسے، ایسا صاحب اعمال نہیں ، عمل صالح کرنے والا نہیں کہ جو حق رکھتا ہو کہ میرے قریب آئے۔تو ناپاک ہے۔تو شیطان کا چیلہ ہے خدا کا چیلہ نہیں اس واسطے میرے پاس نہ آنا۔یہ جو ہے معنی یہ لعنت کا مفہوم ہے۔لعنت قُرب کے مقام سے رد کر نے کو کہتے ہیں اور یہ لفظ اس شخص کے لئے بولا جاتا ہے جس کا دل خدا کی محبت اور پیار سے دور جا پڑے اور درحقیقت وہ