خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 123 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 123

خطبات ناصر جلد نهم ۱۲۳ خطبه جمعه ۲۹ رمئی ۱۹۸۱ء احكامه اَوْ بِبَعْضِه پھر یہ جو احکام شرع ہیں ان کا حق ادا نہیں کیا اور تکفیر کی۔یعنی ان کو چھوڑ دیا تو وہ فاسق بن جاتا ہے اور اس کے اندر اطاعت سے باہر جانا بھی ہے کیونکہ ہر کا فراطاعت سے باہر جاتا ہے اس لئے اس کا دائرہ بڑا بن گیا۔اصل یہ تمہید کی ضرورت اس لئے پڑگئی کہ کچھ پچھلے خطبہ میں جب میں نے اس مضمون پر بات کی تو وہاں گرمی اور کمزوری کی وجہ سے میں بعض تفاصیل نہیں بتا سکا۔ایک بات جو آج میں زاید کہہ رہا ہوں وہ یہ ہے کہ ان آیات کے آخر میں جو ا۵ آیت ہے یعنی وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكَمًا لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ (المائدة : ۵۱) تین گروہ تو وہ ہیں کافر ، فاسق اور ظالم جو مَنْ لَمْ يَحْكُمُ بِمَا انزل الله کے نیچے آتے ہیں اور ایک وہ ہیں جو خدا تعالیٰ کی ذات پر اور اس کی صفات پر یقین رکھتے اور عرفان رکھتے ہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا اپنی زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں۔یقینی علم ہے ، رزاق ہے، بڑا طاقتور ہے، اپنے وعدوں کو پورا کرنے والا ہے۔یہ انبیاء کا سلسلہ جو کہتے ہیں ایک لاکھ بیس ہزار یا چوبیس ہزار پیغمبر آیا دنیا میں۔ہر ایک کی زندگی تمام ان کی جنہوں نے وفا سے کام لیتے ہوئے ان انبیاء کی اتباع کی اور خصوصاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پر۔اس کے بعد آپ کے ماننے والے آپ کے فدائی ، اولیاء اور قطب اور پتہ نہیں کیا کیا انسانوں نے ان کے نام رکھ دیئے ، بہر حال انہوں نے اپنا ایک ہی نام رکھا تھا کہ ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم ہیں، جاں نثار ہیں، آپ کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں اور آپ کی اطاعت میں دنیا کی ہر شے کو ٹھکرا دینے والے ہیں۔دنیا کی ہراذیت جو ہے اس کی کوئی پرواہ نہیں کرنے والے۔وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللهِ حُكْما حکم تو اللہ ہی کا چلتا ہے لیکن جو مومن ہیں اور یقین رکھنے والے ہیں اس قوم کے لئے یہ ہی نہیں خالی کہ اللہ کا حکم چلتا ہے بلکہ یہ ہے کہ اللہ کا فیصلہ ہی سب سے اچھا ، سب سے بہتر ہمارے فائدہ کے لئے اس سے بہتر کوئی اور چیز ہو ہی نہیں سکتی۔اس واسطے جو خدا کا حکم ہے اس کو چھوڑ نہیں سکتے۔دنیا جو مرضی کہتی رہے۔دنیا کی طرف تو دیکھتے ہی نہیں نا۔جو صاحب اقتدار ہے اس کی طرف ان کی نظر نہیں۔ان کی نظر کا، روحانی نظر کا نقطہ صرف ایک ہے اور وہ ہے خدا تعالیٰ کی وحدانیت۔ان کے دل میں جو ہے اس کا خلاصہ اس کا بھی ایک نقطہ ہے اور