خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 122 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 122

خطبه جمعه ۲۹ مئی ۱۹۸۱ء خطبات ناصر جلد نهم ۱۲۲ نکل کے بھی ) تو اس پر میری لعنت ہے۔لعنت کا جو مفہوم ہے یہ میں آگے جا کے بتاؤں گا۔دوسری قسم کا ظلم معاشرہ کا ظلم ہے۔ظلم بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ انسان اس معاشرہ میں رہتا ہے۔اس کے تعلقات ہیں ہزار قسم کے، ہزار قسم سے بھی زیادہ دوسرے انسانوں کے ساتھ تو جب وہ اپنے بھائی کے حقوق ، اپنے ہم ملک کے حقوق ، نوع انسانی کے حقوق ادا نہیں کرتا اور غفلت برتتا ہے تو وہ ظلم کرتا ہے۔ظُلْمُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ انہوں نے یہ اس آیت کی تفسیر جو لکھی ہے سمجھانے کے لئے مطلب ، وہ ایک تو جَزُوا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا (الشوری: ۴۱) ہے اور دوسرے اِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّلِمِينَ خدا تعالیٰ ظلم کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔جو انسان۔دوسرے انسان کا حق ادا نہیں کرتا وہ خدا تعالیٰ کی محبت سے محروم ہو جاتا ہے۔تیسر ا ظلم ہے حقوق نفس کی ادائیگی میں غفلت ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حق تیرے نفس کے بھی اللہ تعالیٰ نے کچھ حقوق قائم کئے ہیں۔جس طرح دوسرے انسانوں کے حقوق کو بجالانا ضروری ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے حقوق کو بجالا نا ضروری ہے خدا تعالیٰ کا یہ حق جو قائم ہوا ہے اس کو بجالا نا ضروری ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَقَد ظَلَمَ نَفْسَهُ (البقرۃ: ۲۳۲) اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے۔تو یہ تین قسم کے ظلم ہیں جن کی سزائیں مختلف ہیں۔خدا تعالیٰ کی لعنت ہے اگر خدا تعالیٰ کے حقوق توڑنے والا ہو انسان۔بڑا ظلم ہے نا شرک کرنا۔وہ واحد و یگانہ ہے۔وحدانیت کے خلاف کھڑے ہو کر کسی اور کی پرستش شروع کر دینا ، شرک جو ہے وہ بڑا وسیع مفہوم اپنے اندر رکھتا ہے۔محض بتوں کی پرستش نہیں۔اقتدار کی پرستش۔دولت کی پرستش۔جتھے کی پرستش۔اگر عالم ہے اپنے علم پر تکبر کرنا اور اپنے آپ کو کچھ سمجھ لینا وغیرہ وغیرہ ہزار قسم کے شرک ہیں اور ہر شرک خدا کو ناپسندیدہ اور خدا تعالیٰ کی لعنت کو مول لینے والا ہے۔تیسری آیت میں کہا تھا وَ مَنْ لَّمْ يَحْكُمُ بِمَا اَنْزَلَ اللهُ فَأُولَبِكَ هُمُ الْفُسِقُونَ فسق کے معنے ہیں، فاسق اسے کہتے ہیں لِمَنِ التَزمَ حُكْمُ الشَّرْعِ وَ أَقَرَّبِہ ایک شخص نے کہا کہ میں ایمان لایا ہوں اور جو احکام ہیں اس کے مطابق میں اپنی زندگی کو ڈھالوں گا۔ثُمَّ أَخَلَّ بِجَمِيع