خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 121
خطبات ناصر جلد نهم ۱۲۱ خطبہ جمعہ ۲۹ مئی ۱۹۸۱ء وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَبِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ ( النور : ۵۶) کفر کے ایک معنے یہ جو ایک معنے ہیں نا کہ جو شریعت ، وحدانیت ، شریعت اور نبوت کا انکار کرنا۔کفر کے ایک دوسرے معنی بھی ہیں اور وہ ہیں کُفْرُ النَّعْمَهِ ناشکری کرنا اور اصل معنے اس کے بنیادی طور پر ہیں ڈھانکنے کے بھی وہ یہاں لگتے ہیں۔تو مفردات راغب نے اس کے معنے کئے ہیں۔سَتْرُهَا بِتَرْكِ أَدَاءِ شُكْرِهَا شکر ادا نہ کرنے سے اس کا خدا تعالیٰ کی نعمت کو چھپا دینا۔قرآن کریم میں شکر کے مقابلہ میں کفر کا لفظ آیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَبِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُم (ابراهیم :۸) اگر میری نعمتوں پر میرا شکر ادا کرتے رہو گے تو میں اور نعمتیں دیتا رہوں گا۔وَلَبِنْ كَفَرْتُم اور اگر تم میری نعماء پر شکر ادا کرنے کی بجائے بغاوت کی راہوں کو اختیار کرو گے تو یا درکھو اِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ اس آیت میں شکر کے مقابلہ میں کفر، ناشکری کے معنے میں آیا ہے واضح ہو جاتی ہے بات۔ابھی میں یہ معنی لے رہا ہوں۔دوسرے جو ترتیب قرآن کریم کی ان گیارہ آیات میں ہے وہ کفر کے بعد ویسے وہاں ظلم ہے یعنی جو زیادہ بڑا دائرہ ہے وہ دوسرے نمبر پر آیا ہے۔وَمَنْ لَمْ يَحْكُمُ بِمَا اَنْزَلَ اللهُ فَأُولَبِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ۔حق کے تقاضوں کو پورا نہ کرنا۔جو حقوق ہیں ان سے تجاوز کرنا۔غفلت کر جانا۔ادا نہ کرنا اور خواہ گناہِ کبیرہ ہو یا گناہ صغیرہ ہر دو پر قرآن کریم نے ظلم کا لفظ استعمال کیا ہے۔مفردات راغب والے کہتے ہیں ظلم تین قسم کے ہیں۔کچھ حقوق اللہ تعالیٰ کے اس کے بندوں پر ہیں۔تو جو شخص خدا تعالیٰ کے حقوق تو ڑتا ہے حقوق ادا نہیں کرتا۔کفر کر کے شرک کر کے یا نفاق سے یا فسق سے یا ظلم سے۔یہ ایک قسم کا ظلم ہے، یعنی خدا تعالیٰ کے حقوق کی عدم ادائیگی ظلم کہلاتی ہے اور اس کو سامنے رکھ کے یعنی یہ معنی ظاہر ہوتے ہیں ان کے نزدیک مفردات راغب کے مؤلف کے نزدیک جو اللہ تعالیٰ نے فرما یا الا لعْنَةُ اللهِ عَلَى الظَّلِمِينَ (هود: ۱۹) کہ جو شخص میرے قائم کردہ حقوق کو ، میرے حقوق کو بجانہیں لائے گا اور انہیں توڑے گا اور حق سے تجاوز کر جائے گا ( ہر کسی سے تجاوز ہو جاتا ہے غفلت کر کے بھی ، آگے