خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 120 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 120

خطبات ناصر جلد نهم ۱۲۰ خطبہ جمعہ ۲۹ مئی ۱۹۸۱ء مفردات راغب میں جو قرآن کریم کی لغت ہے ان تینوں لفظوں کو اس طرح اکٹھا ایک مضمون میں باندھا ہے کہ فسق جو ہے اس کے متعلق وہ کہتے :۔فَالْفَاسِقُ اَعَةُ مِنَ الْكَافِرِ فسق کا مفہوم زیادہ وسیع ہے کفر کے مفہوم سے۔وَالظَّالِمُ اعَةُ مِنَ الْفَاسِقِ اور ظلم کے معنی فسق کے معنی سے زیادہ وسیع ہیں۔تو اگر ہم اسے سمجھنے کے لئے دائرے بنائیں (میں نے آپ کو سمجھانے کے لئے یہاں دائرے بنائے ہوئے ہیں ) تو ایک دائرہ ہوگا بیچ کا چھوٹا وہ کفر کا دائرہ ہے۔اس نقطے سے جہاں سے آپ نے پر کار کھینچ کر دائرہ بنایا اس سے بڑا دائرہ بنا ئیں ، وہ فسق کا دائرہ ہے اور اس سے تیسر ا دائرہ بڑا بنا ئیں تو وہ ظلم کا دائرہ ہے۔تو ہر فاسق کا فر ہے۔بڑا دائرہ ہے نا ہر فاسق کا فر ہے لیکن ہر کا فر فاسق نہیں۔فسق کے معنی میں کچھ ایسے گناہ آتے ہیں جو کفر کے معنی میں نہیں آتے اور ہر ظالم فاسق بھی ہے اور کافر بھی ہے۔لیکن ہر کا فرظالم نہیں۔ہر فاسق ظالم نہیں۔ان تین الفاظ کے معانی کی وضاحت انہوں نے ان دو چھوٹے فقروں میں کی ہے۔کفر کے معنے انہوں نے کئے ہیں وحدانیت اور شریعت اور نبوت یا تینوں کا کفر کرنا۔ان کی تکذیب کرنا۔ان پر ایمان نہ لانا اور فاسق چونکہ بڑا دائرہ ہے انہوں نے لکھا ہے کہ وَ إِذَا قِيْلَ لِلْكَافِرِ الاصلي فاسق کہ جو اصلی کا فر ہوا سے جب فاسق کہا جاتا ہے تو وہ صرف خدا تعالیٰ کے احکام کو جو شریعت کی شکل میں نازل ہوئے سارے احکام اس دنیا میں، اس کائنات میں اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں لیکن جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر شریعت نازل ہوئی ، صرف ان احکام کا انکار نہیں کرتا تکذیب نہیں کرتا بلکہ اَخَلَّ بِحُكْمِ مَا الْزَمَهُ الْعَقْلُ وَاقْتَضَتْهُ الْفِطْرَةُ اس سے زاید بھی کچھ گناہ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو عقلِ سلیم عطا کی ہے اس کا گناہ کرتا ہے۔اس کو توڑتا ہے اور جو فطرت کے تقاضے ہیں انہیں وہ پورا نہیں کرتا۔اس لئے کفر سے زاید اس نے کیا تو الْكَافِرُ الْاَصْلِي اس معنی میں اس کو ہم کہہ دیتے ہیں اور وہ آیات بھی بیچ میں لے آتے ہیں اس کی تفصیل میں میں اس وقت نہیں جاؤں گا۔مختصر کرنے کی کوشش کروں گا۔مجھے ضعف اور گرمی محسوس ہورہی ہے۔