خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 115
خطبات ناصر جلد نهم ۱۱۵ خطبه جمعه ۲۲ مئی ۱۹۸۱ء ہے اور اس تمہید کے بعد اب میں اس مضمون کے اوپر آرہا ہوں۔یہ سال جو ہمارا پندرہویں صدی کا پہلا سال اس میں ایک عجیب خصوصیت اور پیدا ہو گئی کہ پہلا سال جو آیا بیچ میں یعنی اس صدی میں عیسوی پہلا سال مالی لحاظ سے وہ ۸۰ ۸۱ ء کا۔وہ چودہ مہینے کا بن گیا بارہ مہینے کی بجائے۔بعض قانونی ضرورتوں کی وجہ سے تاریخ بدلنی پڑی اور بارہ مہینے کی بجائے چودہ مہینے کا سال بن گیا اور خالی چودہ مہینے کا سال نہیں بنا بلکہ اس سال کے اندر بعض ذمہ داریاں مالی لحاظ سے بہت رقم طلب کرنے والی دو دفعہ اس سال میں آگئیں مثلاً آپ جانتے ہیں کہ جماعت احمد یہ کے کارکنوں کو جو ضرورت ہے اس کا نصف مفت اور نصف کے قریب ( گندم ) کے لئے قرض رقم دی جاتی ہے۔تو بڑی رقم ہے دس بارہ (اس وقت میں زبانی ساری بات کر رہا ہوں ) لاکھ بلکہ سارے ہمارے ( اس جلسے پر میں نے بتایا تھا ) شاید تیرہ، چودہ لاکھ کے قریب یہ بنتی ہے اور یہ دو دفعہ آگئی کیونکہ مئی سے شروع ہوتا تھا سال۔اس سے پہلا سال تو یکم مئی سے شروع ہوتا تھا تو وہ مئی کا مہینہ ہے گندم کا خرید کا، تو سال کے شروع میں اس سال کے بجٹ سے پیسے دے دیئے جاتے تھے ، خرچ کر دیئے جاتے تھے۔دوسرے مستحقین پر بھی کئی لاکھ روپیہ خرچ ہوتا ہے وہ خرچ کر دیا جاتا تھا۔اس سال وہ بھی خرچ ہو گیا کیونکہ یکم مئی سے یکم جولائی تک چودہ مہینے کا سال بن گیا اور اب دوسری دفعہ وہ رقم ہمیں خرچ کرنی پڑ رہی ہے۔اس کو احسن طریق پر اور اس بوجھ کو لٹکانے کی بجائے میں کوشش کروں گا انشاء اللہ کہ اسی سال میں یہ دونوں، ایک ہی بوجھ جو دو دفعہ آیا ہے گندم کا وہ بوجھ اٹھالے جماعت۔میں یہ نہیں کہ رہا زیادہ پیسے دو اس وقت میرا ادھر کوئی مطالبہ نہیں۔میرا مطالبہ یہ ہے کہ جو قانون کے مطابق اور آپ کے وعدہ کے مطابق اور آپ کے عہد کے مطابق إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا (بنی اسر آویل : ۳۵) آپ کے ذمے جو رقم آتی ہے وہ یکم جولائی تک اس سے پہلے پہلے جو آتی ہے وہ اپنے وقت پر پوری کر دیں اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اتنی برکت ڈالے آپ کے اموال میں ) کہ جو نسبتی چندہ بنتا ہے نا پھر ) کہ اس کا چندہ اتنا بن جائے اتنی برکت آپ کو خدا دے مال اور دولت کے لحاظ سے کہ آپ کی جو ذمہ داری ہو وہ اتنی ہو کہ آپ دونوں بوجھ ایک سال میں یعنی ایک ہی بوجھ جو دو دفعہ پڑ رہا ہے ایک سال میں اسے ادا