خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 106
خطبات ناصر جلد نهم 1+4 خطبه جمعه ۱۵ رمئی ۱۹۸۱ء چاہیے یعنی غلط ہوگا اگر کوئی یہ استدلال کرے کہ تو رات اور انجیل ( آج جو بگڑی ہوئی شکل میں ہیں ویسے بھی قرآن کریم کے بعد تو ان کی ضرورت نہیں تھی ) کے احکام پر چل کر اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنتوں کو حاصل کیا جا سکتا ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ ان کتب بنی اسرائیل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی بشارت ہے اور ایک عظیم تعلیم کے نازل ہونے کی بشارت ہے جو قرآن کریم کی شکل میں نازل ہو گیا۔تو اللہ تعالیٰ نے گویا یہ فرمایا کہ انہیں کیا ہو گیا ہے کہ وہ تورات اور انجیل کے تاکیدی حکم پر عمل نہیں کرتے اور احکام الہی جو قرآن کریم میں پائے جاتے ہیں ان کے مطابق حکم اور فیصلہ نہیں کرتے بلکہ احکام قرآنی کو توڑتے ہیں۔اس طرح تو وہ ہدایت نہیں حاصل کر سکیں گے۔پس آج کے خطبہ میں (جو ایک تمہید ہے ) میں نے بنیادی چیز جو لی وہ یہ ہے کہ الحکم لله (المؤمن: ۱۳) اس تمہید سے متعلق گیارہ آیات ہیں۔یہ مضمون شروع یہاں سے ہوا ہے کہ خدا تعالیٰ کی بادشاہت اور اس کی حاکمیت جو ہے وہ اس کا ئنات میں قائم ہے لیکن آج کے خطبہ میں میں نے یہ بتا یا کہ حکم ہے انسانوں کو کہ احکام الہی کے مطابق فیصلے کرو۔اس کے متعلق میں پہلے بھی بات کر چکا ہوں خطبے میں لیکن آج کے خطبہ میں اس پر اضافہ میں نے یہ کیا کہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو تمہارے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وہی سلوک ہوگا جو قرآن کریم نے تفصیل سے بتایا ہے کہ کافروں کے ساتھ اس کا یہ سلوک ہوتا ہے، ناشکروں کے ساتھ اس کا یہ سلوک ہوتا ہے ، ظالموں کے ساتھ اس کا یہ سلوک ہوتا ہے اور فاسقوں کے ساتھ اس کا یہ سلوک ہوتا ہے، حکومت اسی کی ہے۔کوئی شخص خدا تعالیٰ کے حکم سے انکار کر کے ایک اچھی ، گند سے پاک، ایک معصوم ایک خوشحال ، ایک خوش بخت زندگی نہیں گزار سکتا۔خدا کو ناراض کرنے کے بعد ہلاکت ہے جنت نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں جنت کا وارث بنائے اور ہر قسم کی ہلاکتوں سے محفوظ رکھے۔آمین۔(روز نامه الفضل ربوه ۱۵ نومبر ۱۹۸۱ء صفحه ۳ تا ۵ )