خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 801
خطبات ناصر جلد هشتم ۸۰۱ خطبه جمعه ۲۱ نومبر ۰ ١٩٨٠ء بھی اتنی زبر دست پیشگوئیاں ہر زمانے کے لئے ، ہاں یہ میں غیب جو ہے وہ حال کا ہے اس طرح کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سینکڑوں میل دور نقشہ خدا نے دکھا دیا ان کو جنگ کا اور وہاں سے انہوں نے آواز دی سالا رکو کہ یہ اس طرح تبدیلی کر اپنی صفوں میں ورنہ خطرہ ہے اور کئی سومیل پر اس سردار نے حضرت عمر کی آواز سنی اور وہ تبدیلی کی اور وہ جنگ جس کے متعلق خیال تھا کہ کہیں ہار نہ جائیں وہ شکست سے وہ فتح میں تبدیل ہوگئی۔یہ حال کا غیب تھا نا۔کئی سومیل کے اوپر وہ نقشہ دکھا دیا۔تو غیب صرف مستقبل کا نہیں بلکہ حال کا غیب بھی ہے۔پھر اتنی بشارتیں جو دی گئی ہیں ان میں شک کرنے لگ جاتے ہیں۔یہ جو ہم مثلاً جماعت احمد یہ ہے ہمارا یہ ایمان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم نے امت محمدیہ کے لئے جو عظیم بشارتیں دیں کہ ایک روحانی فرزند اور آپ کا نائب پیدا ہو گا جس کے ذریعے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں اسلام کو غالب کیا جائے گا اور ہمارا یہ ایمان ہے کہ ہم ان کی جماعت میں ہیں دنیا نہیں ابھی سمجھتی۔ان کا نہیں ایمان لیکن ہمارا تو ہے نا۔تو یہ دعویٰ کہ ہمارا ایمان بھی ہے اور ہمیں شک بھی ہے کہ پتا نہیں ایسا ہوتا بھی ہے یا نہیں۔کیسے نہیں ہوگا۔جب خدا نے یہ کہا اللہ پر ایمان، رسول پر ایمان، اللہ کی ذات وصفات جوجلوے اس کے ظاہر ہونے ہیں ان کے اوپر ایمان بغیر شک اور شبہ کے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے نوع انسانی کی بہبود کی خاطر ان کے اعمال میں صلاح اور نیکی اور تقویٰ پیدا کیا گیا، اس کے متعلق جو ہیں ان کے اوپر ایمان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم پر عمل کئے بغیر آپ کے نقش قدم پر چلے بغیر تقویٰ کی کوئی راہ نہیں ہے۔وہی ہے ایک راہ اور ولكن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمُ (الحج: ٣٨) خدا تعالیٰ کو تو تقویٰ پسند ہے پھر انعام اس سے حاصل کر لو۔تو بہت ساری ہیں چیزیں لیکن اصل یہ ہے کہ اللہ کی ذات اور صفات کا جو بیان ہمارے لئے وہ غیب ہے۔خدا ہمیں نظر نہیں آتا اس کی صفات کے جلوے بعض کو نظر آتے ہیں بعض وہ بھی نہیں پہچانتے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمتوں کو، آپ کی رفعتوں کو، آپ کی بزرگی کو، آپ کے حُسن کو اور نور کو کون پہچانتا ہے یعنی ساری دنیا تو نہیں اس وقت پہچان رہی۔جو غیر مسلم