خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 802
خطبات ناصر جلد ہشتم ۸۰۲ خطبه جمعه ۲۱ / نومبر ۱۹۸۰ء یورپ وغیرہ کے نہیں پہچان رہے تو ہمیں بتایا گیا کہ پہچانے لگیں گے وہ۔تو یہ بھی زمانہ اب محد صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ شروع ہو گیا۔یہ ایک تو ہے کہ غیب کوئی نہیں ، کوئی شک نہیں جو کہا گیا وہ پورا ہوگا۔جو خدا ہے، جس طرح خدا کی وحدانیت کو اور اس کی قدرتوں کو، اس کے غلبہ کو، اس کی عزتوں کے سر چشمہ اور منبع کو انسان کے لئے ، قرآن کریم نے کہا، تم عزت چاہتے ہو فطرتِ انسانی میں ہے معز ز بننا، قرآن کریم نے اس کو تسلیم کیا اگر عزت چاہتے ہوتو یا درکھو کہ حقیقی عرب تیں خدا تعالیٰ سے ملا کرتی ہیں۔دنیا والے جو ہیں وہ عرب تیں نہیں دیا کرتے کبھی دیتے ہیں ایک دن اگلے دن چھین لیتے ہیں مگر وفادار ہے اگر کوئی ہستی انسان کے لئے تو وہ اللہ کی ذات ہے۔دوسری صفت بچے ایمان کی بتائی گئی ہے جہاد۔جہاد اپنے صحیح ، بچے اور وسیع معنی میں بہت سے پہلو رکھتا ہے لیکن اصل جہاد یہ ہے کہ ایک مقصودِ زندگی ہے ہمارا اور وہ یہ ہے خدا کو پالینا اور اس کی رحمت کے سایہ تلے اپنی زندگی گزارنا ، اس کا ہو جانا، اس کے دامن کو پکڑنا اس مضبوطی کے ساتھ کہ کوئی دنیوی طاقت اس دامن کو ہمارے ہاتھ سے چھڑا نہ سکے۔تو وصلِ الہی ، رضائے الہی اس کا عبد بن جانا یہ ہماری زندگی کا مقصد ہے اور جہاد کہتے ہیں اس مقصد کے حصول کے لئے کوشش اور سعی کرنا، اپنا سا زورلگا دینا کہ ہمیں یہ مقصد حاصل ہو جائے۔خدا کہتا ہے کبھی اپنے اموال دو میری راہ میں۔اموال دے دو اسی نے دیئے تھے وہ رکھتا بھی نہیں کئی دفعہ میں پہلے کہہ چکا ہوں خدا کہتا ہے کہ کبھی میں کہتا ہوں اپنی طاقتیں جو ہیں وہ میری راہ میں خرچ کر دو کبھی میں کہتا ہوں اپنی جان جو ہے وہ میری راہ میں خرچ کر دو۔کبھی میں کہتا ہوں اپنی عقل اور فراست کو فراست کی نشوونما کو اس کی انتہا تک پہنچاؤ اور پھر میرے قدموں میں لا کے ڈال دو۔تو مالوں اور جانوں اور نفسوں کو مع ان کی تمام طاقتوں کے خدا کی راہ میں خرچ کرنے کا نام جہاد ہے اور جہاد کا ایک چھوٹا ساحصہ یہ بھی ہے۔بہت وسعتیں ہیں یعنی انسان کا اپنا کچھ نہ رہے سب کچھ خدا کا ہو جائے۔اس زمانہ میں ایک منظم جدو جہد غلبہ اسلام کی شروع ہے۔غلبہ اسلام کی اس جدو جہد کی بنیاد ہے تربیت جماعت یعنی جماعت میں جو داخل ہوتے ہیں نئے احمدی ان کی ، جو پرانے ہیں ان کو تربیت کے جس مقام پہ پہنچے ہیں اس پر قائم رکھنا، کوشش کرنا کہ وہ اور رفعتوں کو حاصل کریں۔