خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 675 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 675

خطبات ناصر جلد هشتم ۶۷۵ خطبه جمعه ۳۰ رمئی ۱۹۸۰ء سمجھ کر پڑھنے کی غرض سے ہی میں نے کہا کہ کوئی ہمارا بچہ میٹرک سے کم پڑھا ہوا نہ ہو۔میرے ذہن میں یہ تھا کہ کوئی بچہ ہماری جماعت میں ایسا نہ ہو کہ وہ قرآن کریم سمجھنے کے لئے جو میٹرک کا دماغ ہے اس سے کم دماغ رکھے یعنی میٹرک کا دماغ رکھنے والے میں اتنا علم حاصل کرنے کے بعد جو روشنی پیدا ہوگی اتنی روشنی تو کم از کم ہمارے ہر بچہ میں ہونی چاہیے تا کہ قرآن کریم کے بعض جلوے جو ہیں وہ اس کے دماغ میں اُجاگر ہوسکیں اور میں نے یہ کہا کہ جس دماغ کو اللہ تعالیٰ نے مادی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی آیات کے سمجھنے اور ان سے استدلال کر کے بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچانے کی قوتیں اور طاقتیں عطا کی ہیں ان کو کسی ایسی جگہ رکنا نہ پڑے کہ ان کے پاس، ان کے خاندان کے پاس آگے پڑھنے یا پڑھانے کے لئے گنجائش نہیں۔یہ ذمہ داری جماعت اٹھائے۔اس کے لئے پیار کے ساتھ پیار پیدا کرنے کے لئے میں نے کہا دستخط سے خط لکھوں گا (جس کے سپر دکیا ہوا تھا دستخطوں والے خط کو پرنٹ کرنا انہوں نے بڑی دیر کر دی اور طبع ہو کر ابھی نہیں پہنچے وہ۔اس کا مجھے افسوس ہے۔کوشش کروں گا سفر سے پہلے بچوں کے پاس وہ خطوط پہنچ جائیں )۔مگر جہاں تک میرا اندازہ ہے کہ میرے اس حکم کے مطابق ، میری اس خواہش کو پورا کرنے کے لئے جماعت ہائے احمدیہ پاکستان کو جتنی کوشش کرنی چاہیے تھی انہوں نے اس کا ۱/۱۰ کی ہے یا کچھ زیادہ اس سے کیونکہ میرا اندازہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک لاکھ سے زائد پڑھنے والے بچے عطا کئے ہیں لیکن ہمارے پاس جو خطوط آئے ہیں وہ چودہ پندرہ ہزار ہیں۔یہاں راولپنڈی میں یہ ہوا کہ عہد یدار مجھے کہنے لگے ہماری فہرست مکمل، جب پوچھا کتنی؟ تو بتایا ساڑھے سات صد۔میں نے کہا میرے اندازے کے مطابق تعداد ہزار سے او پر جانی چاہیے۔جب میں پچھلی دفعہ یہاں آیا ہوں آپ کے پاس میں نے ان سے کہا میں تین دن دیتا ہوں اور کوشش کریں۔تین دن کے بعد آئے تو تعداد ساڑھے تین سو سے ساڑھے سات سو ہو گئی۔میں نے کہا اب بھی کم ہے کوشش کریں۔ابھی مجھے ملے تو نہیں ، کسی نے مجھے بتایا ہے کہ تعداد آٹھ سو سے اوپر نکل گئی ہے اور اب ان کو بھی امید ہو گئی ہے کہ میرے کہنے کے مطابق تعداد ایک ہزار سے اوپر ہو جائے گی۔