خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 676
خطبات ناصر جلد ہشتم ۶۷۶ خطبه جمعه ۳۰ رمئی ۱۹۸۰ء تو یہ معمولی باتیں نہیں آپ کی جماعتی زندگی کے لئے۔اس زمانہ میں جب اسلام کا کامل اور مکمل غلبہ اپنے پیار کے ساتھ اور اپنے نور کے ساتھ اور اپنے حسن کے ساتھ اور اپنے احسان کے ساتھ اس دنیا کے انسان کے لئے مقدر ہے اس میں ان ساری چیزوں کا بڑا حصہ ہے۔پس اس کی اہمیت کو سمجھیں، پہلے تو ہر احمدی سمجھے کہ میں ہوں کون؟ میری ذمہ داریاں کیا ہیں؟ میں کس تحریک سے منسلک ہوں؟ کیا مقصد ہے میری زندگی کا ؟ اسے حاصل کرنے کے لئے کیا کچھ مجھے کرنا چاہیے۔کرنے کا سوال مقصد کی عظمت کے ساتھ ہوتا ہے۔اگر کسی نے چندر یوڑیاں لینی ہوں بازار سے، یہ مقصد ہو تو ایک پیسہ کافی ہے خرچ کرنے کے لئے۔لیکن اگر اسلام آباد میں مکان بنانا ہو تو لاکھوں کی ضرورت پڑ جائے گی۔اگر کسی نے دوفر لا نگ سفر کرنا ہو تو اس کو ایک دھیلے کی بھی ضرورت نہیں۔اس کو دو فرلانگ چلنا پڑے گا لیکن جس شخص نے زمین سے اٹھ کر آسمان کی رفعتوں پر جا کر خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنا ہو اس کو تو بڑا چلنے کی ضرورت ہے۔بہت سفر کی ضرورت ہے۔راہ بڑی لمبی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ عطا کرے۔اللہ تعالیٰ ہماری کوششوں میں برکت ڈالے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ذمہ داریاں سمجھنے کی توفیق دے۔اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو (جو بیمار ہیں انہیں ) صحت دے اور صحت سے رکھے اور ہمارے دلوں میں یہ پیار اور ہماری نسلوں میں یہ جذبہ ہمیشہ قائم رہے کہ بنی نوع انسان کو ہلاکت سے بچانا ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے انہیں لا جمع کرنا ہے۔روزنامه الفضل ربوه ۷ رجون ۱۹۸۰ء صفحه ۲ تا ۴)