خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 672 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 672

خطبات ناصر جلد ہشتم ۶۷۲ خطبه جمعه ۳۰ رمئی ۱۹۸۰ء ملاپ بالواسطہ اور بلا واسطہ دونوں طرح ہو جاتا ہے کیونکہ خطبہ چھپ جاتا ہے تو ساری جماعت کو پتہ لگ جاتا ہے۔ایک تو دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ جلد کامل شفا دے تا کہ سہولت کے ساتھ میں اپنے پورے کام کرنے کے قابل رہوں۔اس بیماری میں بھی ایک وقت ایسا آیا کہ میں ڈاک دیکھ نہیں سکتا تھا۔پھر ایک وقت ایسا آیا کہ ڈاک بہت اکٹھی ہو گئی۔پھر ربوہ میں مجھے خیال آیا کہ اس طرح تو بڑی مشکل پڑ جائے گی۔میں نے دو رات دو بجے شب تک اور ایک رات اڑھائی بجے تک ڈاک دیکھی ، اور بہت ساری ڈاک نکال دی۔جب میں یہاں آیا ہوں تو قریباً ساری ڈاک میں دیکھ چکا تھا۔دن کو بھی رات کو بھی لیکن چوتھے دن کام کی زیادتی کی وجہ سے میری یہ حالت تھی کہ ایک کاغذ کو ہاتھ لگانے کو بھی میرا دل نہیں کر رہا تھا۔بہر حال اللہ تعالیٰ توفیق دیتا ہے۔آزمائش میں بھی ڈالتا ہے۔جو وہ کرے اس پر ہم راضی ، شکوہ تو نہیں کرنا حماقت ہے بڑی خدا سے شکوہ کرنا اس خدا سے جو بیشمار نعمتیں دینے اور فضل کرنے والا ہے۔اگر انسان اپنی ہی غفلت کے نتیجہ میں اس کے قانون کو توڑنے کی وجہ سے تکلیف میں پڑ جائے تو اسے اپنے سے شکوہ ہونا چاہیے خدا سے تو نہیں ہونا چاہیے مات ہمیں یہ دی ہے اللہ تعالیٰ نے کہ وَ اِذَا مَرِضْتُ انسان اپنی ہی کسی غفلت کے نتیجہ میں بیمار ہوتا ہے اور وہ شفا حاصل نہیں کر سکتا اپنی کوشش سے فَهُوَ يَشْفِينِ (الشعراء:۸۱) شفا اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے انسان جو شفا حاصل کرتا ہے اس کے دو طریقے ہیں۔ایک طریقہ یہ ہے کہ وہ ادو یہ جو خدا تعالیٰ کے دست قدرت سے بنی ہیں ان کا صحیح استعمال ہو اور خدا تعالیٰ کا حکم ہو دوا کو بھی کہ تو مؤثر بن اور جسم کے ذرات کو بھی کہ اس دوا کے اثر کو قبول کرو۔یہ ایک نظام ہے اور دوسرا طریقہ ہے خالص دعا کا جس میں مادی تدبیر بطور پردہ کے آجاتی ہے ورنہ ہوتا کچھ نہیں۔ایک دفعہ، دیر کی بات ہے، حضرت مرزا شریف احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پڑوس میں ایک نوجوان رات کے دو بجے مچھلی کی طرح تڑپنے لگا۔اسے شدید درد پیٹ میں اٹھی۔سارے محلہ کو اُس نے سر پہ اٹھالیا۔نوجوان تھا، آواز بھی اونچی تھی۔خوب زور زور سے اس نے