خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 475
خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۷۵ خطبہ جمعہ ۳۰/نومبر ۱۹۷۹ء یہ بنیادی حقیقت ہے کہ کائنات کی بنیا د وحدانیت پر ہے خطبه جمعه فرموده ۳۰ /نومبر ۱۹۷۹ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔جیسا کہ میں اپنے دوستوں کو بھی اور جب بیرون ملک سفر میں ہوں تو غیر مسلم دنیا کو بھی اس بنیادی حقیقت کی طرف ہمیشہ توجہ دلاتا ہوں کہ اس کائنات کی بنیاد وحدانیت پر ہے۔خدائے واحد ویگانہ نے اسے پیدا کیا۔مادی اشیاء کو۔کائنات کو بھی اور انسان کو بھی۔اس کے متعلق کچھ تفصیل سے میں اس وقت بیان کرنا چاہتا ہوں۔تفصیل تو اللہ تعالیٰ کی صفات کی اس قدر لمبی ہے کہ انسان پیدائش سے لے کے قیامت تک بھی بیان نہیں کر سکتا۔بنیادی بعض باتیں اس وقت میں بتاؤں گا۔ہمیں قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ (الانعام: ۱۰۳) ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ربنا الَّذِي أَعْطَى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ (طه: ۵۱) ہر چیز کو جس غرض کے لئے پیدا کیا۔اس کے مطابق اور مناسب اعضا بھی دیئے اور مختلف کیمیاوی اجزا بھی دیئے اور قو تیں بھی دیں اور صلاحیتیں بھی پیدا کیں اور استعداد میں بھی عطا کیں اور ہر چیز کو ایک میزان میں اس نے باندھا۔ایک ایسا قانون بنایا کہ اس قدر وسیع کائنات میں انتشار کا ایک ذرہ بھی نہیں پایا جاتا۔ہر چیز دوسرے سے بندھی ہوئی ہے۔وَضَعَ الْمِیزَانَ توازن کا ایک