خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 476
خطبه جمعه ۳۰ / نومبر ۱۹۷۹ء خطبات ناصر جلد هشتم اس نے قانون اس میں جاری کیا۔یہ جو توازن کا قانون ہے یہ قانونِ قدرت کی بنیاد بنتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کا ئنات میں بنیادی طور پر دو مختلف خلق کیں۔ایک انسان اور ایک انسان کے علاوہ ہر شے اور یہ جو میزان ہے۔یہ انسان کے علاوہ جو ہر شے ہے اسے میزان میں باندھا آپس میں توازن ایک بنایا ہے اور جو انسان ہے اسے بھی میزان میں باندھا۔توازن اس کے اندر قائم کیا۔اسے آنکھ دی دیکھنے کے لئے ، کان دیئے سننے کے لئے ، اس نے دوسرے حواس دیئے اور عقل دی۔ان میں توازن پیدا کرنے کے لئے جو نتیجہ نکالتی ہے مختلف حواس کے مشاہدات کا۔انسان اپنے طور پر بھی خود کائنات کا ایک بڑا حصہ ہے۔شائد مادی وسعتوں کے لحاظ سے تو نہیں ، یوں کہنا چاہیے کہ یقیناً مادی وسعتوں کے لحاظ سے تو نہیں لیکن اپنی اہمیت اور مقصد حیات کے نتیجہ میں یہ کائنات کا بڑا حصہ ہے اس لئے کہ کائنات کی ہر شے انسان کی خادم بنا کے پیدا کی گئی اور انسان کو بحیثیت انسان، بنی نوع انسان کو اللہ تعالیٰ نے مجموعی طور پر اتنی عظیم اور وسیع طاقتیں دے دیں کہ کائنات کی ہر چیز سے وہ خدمت لینے کی طاقت اور قوت رکھتا ہے اور انسان کو مادی طاقتیں بھی دیں۔اس کی پیدائش کی غرض بہت اہم بہت بلند تھی۔مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات:۵۷) اس نے اپنے پیدا کرنے والے رب کی صفات اپنے اندر پیدا کر کے اپنی زندگی گزار نی تھی۔اس مقصد کے لئے وہ پیدا کیا گیا تھا۔صاحب اختیار ہے۔کچھ اس مقصد کو پانے میں کامیاب ہوتے ہیں اپنے اعمالِ صالحہ کے نتیجہ میں اور کچھ نا کام ہوتے ہیں لیکن کامیاب ہونے کا امکان سب کے لئے موجود ہے کیونکہ وہ طاقتیں ان کو عطا کی گئی ہیں اور جہاں نوع انسانی کو بحیثیت نوع اور اجتماعی لحاظ سے وہ ساری طاقتیں اور صلاحیتیں دے دی گئیں کہ وہ کائنات پر بطور مخدوم کے خدا کے حکم کے ماتحت حکمرانی کر سکے۔وہاں ہر فرد بشر جو دنیا میں پیدا ہوا ہر دوسرے فرد بشر سے مختلف ہے، اس لئے کہ انسان نے تمدنی زندگی گزارنی تھی ایک دوسرے کے ساتھ ان کا میزان کا تعلق ایسا تھا کہ انتہائی عروج کو اپنی ترقیات میں وہ اکیلا نہیں پہنچ سکتا تھا بلکہ اس کی نوع نے پہنچنا تھا۔اسی واسطے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمتوں میں سے ایک بڑی عظمت یہ ہے کہ آپ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے نوع انسانی کو