خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 460 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 460

خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۶۰ خطبہ جمعہ ۱۶ نومبر ۱۹۷۹ء ہیں۔وفود کی شکل میں امریکہ سے پچھلے سال ہی اٹھائیں مردوزن آئے ، یورپ سے آتے ہیں ناروے، سویڈن ڈنمارک ( کبھی کم کبھی زیادہ ) جرمنی سے بھی اور سوئٹزرلینڈ سے آتے ہیں۔انگلستان سے بھی شائد وفد کی صورت میں بعض آتے ہیں۔ایک تو وفد کی صورت میں آتے ہیں۔ان کی رہائش کا انتظام بھی جماعت کرتی ہے۔کچھ تو رہائش گاہیں بن گئیں۔وسیع بن گئیں۔بہت سے کمروں پر مشتمل بن گئیں۔جب بنی تھیں بڑی نظر آتی تھیں۔جب بن چکیں تو مکین زیادہ ہو گئے اور گنجائش کم ہوگئی جو باہر سے وفود آتے ہیں وہاں کی جماعت کو وہاں کے نظام کو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ کوشش کریں کہ اکثریت ان وفود میں نئے آنے والوں کی ہو۔کچھ فیصد پرانوں میں سے بھی ہوں وہ ان کو بتائیں گے بہت سی باتیں اور فائدہ ہوگا اس کا لیکن اکثریت جو ہے وہ نئے آنے والوں کی ہوتا کہ زیادہ سے زیادہ بیرونِ ممالک بسنے والے احمدیوں کا ذاتی تعلق مشاہدہ کر کے سن کے، فضا کو سونگھ کے مرکز سلسلہ سے اور جماعتی نظام کے ساتھ ہو جائے۔جب شروع میں میں نے تحریک کی کہ وفود آئیں تو انڈونیشیا سے پہلے سال میرے خیال میں کوئی بھی نہیں آیا یا بہت کم نہ ہونے کے برابر لیکن پچھلے سال ان کی تعداد بھی غالباً بیس سے زیادہ ہوگئی حالانکہ پچھلے سال جب وہ سفر کی تیاری کر چکے تھے اور رقم انہوں نے کرائے کی جمع کر لی تھی یکدم کرائے بڑھ گئے اور بعض کو ایسا کرنا پڑا کہ بیوی آگئی یا میاں آگیا کیونکہ ہر دو کے کرایہ کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے تھے لیکن پھر بھی کافی تعداد میں آگئے۔پس جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ خیال رکھیں کہ اکثریت نئے آنے والوں کی ہو۔لیکن باہر کے مختلف ممالک سے آنے والے وہ دوست بھی ہیں جو نظر انداز ہوتے رہے اس سال نہیں ہونے چاہئیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے رشتہ دار عزیز یہاں ہیں۔بعض کے گھر یہاں ہیں۔بعض نے اپنے بیوی بچے یہاں چھوڑے ہوئے ہیں۔وہ آگئے اور ایام جلسہ میں جو ایک مخصوص فضا، ایک وسعت، ایک فراخی ، ایک رفعت ، ایک ہجوم ہے اس کے اندر شامل ہوئے اور غائب ہو گئے جس طرح سمندر میں قطرہ غائب ہو جاتا ہے۔انگلستان سے ہی بیسیوں ایسے احمدی آتے ہیں جن کا اندراج کہیں نہیں ہوتا کہ وہ جلسے کے