خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 459
خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۵۹ خطبہ جمعہ ۱۶ / نومبر ۱۹۷۹ء قرآن عظیم کے بیان میں وہ سننے کے لئے آتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنے کے لئے آتے ہیں وہ خدا تعالیٰ پر کامل یقین پیدا کرنے کے لئے اور اس یقین میں پختگی پیدا کرنے کے لئے یہاں آتے ہیں۔وہ ایک روحانی انقلاب عظیم اپنی زندگیوں میں بپا کرنے کے لئے یہاں آتے ہیں اور بہت ہیں جن کی زندگیوں میں ایک ایسا انقلاب بپا ہو جاتا ہے کہ دنیا دار نگاہ دیکھتی اور حیران ہوتی ہے اور سمجھ نہیں پاتی کہ ہو کیا گیا ، کہاں کے تربیت یافتہ ہیں یہ لوگ۔یہ باتیں اپنے بچوں کے اپنی عورتوں کے کانوں میں ڈالیں۔مردوں کی طرح عورتیں بھی بڑی مخلص ہیں۔پھر بچیاں بھی ہیں، ناصرات سے تعلق رکھنے والی بھی ہیں۔نئی نئی احمدی ہونے والی بھی۔اسی سال کے دوران بہت سے مردوزن اللہ تعالیٰ کے فضل سے خوابیں دیکھنے کی بناء پر احمدیت کو قبول کرنے والے بھی ہیں۔ان کو صداقت آسمان پہ نظر آئی ، انہوں نے قبول کر لیا۔اس صداقت کے نتیجہ میں جو زمین پر ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔وہ ان کے سامنے آئیں گی۔انہیں سمجھنا چاہیے۔ساری دنیا کے خادم بنا کر ہمیں اکھٹا کر دیا۔بُنْيَانِ مَخصوص کی طرح کہ ایک دوسرے میں کوئی فرق نہیں رہا اور سب کے لئے دعائیں کرنے والا بنا دیا ہمیں۔تو ان چیزوں کو ذہن میں حاضر رکھ کے یہاں آئیں۔دوسرے جلسہ پر آنے والوں میں پاکستان کے مختلف مقامات سے آنے والوں میں بھی اور بیرونی ممالک سے آنے والوں میں بھی ایسے بھی ہیں جو احمدی نہیں جلسے پر آتے ہیں دوستوں کے ساتھ ، بہت کچھ انہوں نے سنا ہوتا ہے وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ جو انہوں نے سنا جماعت کے خلاف وہ درست بھی ہے یا نہیں۔ان کو بھی آپ سمجھا ئیں کہ جس جگہ آپ جا رہے ہیں اس کی فضا اس کا ماحول اس کی روایات ہر شخص سے جو یہاں آتا ہے کچھ مطالبہ کرتی ہیں اس مطالبے کو آپ پورا کریں۔بہت سی باتیں تو یہاں کا ماحول خود ہی سمجھا دیتا اور مطالبہ اپنا خود ہی پورا کر والیتا ہے لیکن جو ہمارا فرض ہے وہ ہمیں ادا کرنا چاہیے۔جو غیر ممالک سے آنے والے ہیں وہ دو گروہ ہیں ایک وہ جو نمایاں ہو کے پچھلے سالوں میں ہمارے سامنے آتا رہا اور ایک وہ جو نظر انداز ہو گیا جو نمایاں ہو کے ہمارے سامنے آیا وہ وفود