خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 298
خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۹۸ خطبہ جمعہ ۲۷ جولائی ۱۹۷۹ء جستجو کرو اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمہیں صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے۔اس کے بعد صبح سے رات تک روزوں کی تکمیل کرو اور جب تم مساجد میں معتکف ہو تو ان بیویوں کے پاس نہ جاؤ۔یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں اس لئے تم ان کے قریب بھی مت پھٹکو۔اللہ اسی طرح لوگوں کے لئے اپنے احکامات بیان کرتا ہے۔تا کہ وہ ہلاکتوں سے بچیں۔ان آیات میں جو احکام دیئے گئے ہیں وہ یہ ہیں۔اب میں مفہوم بتاؤں گا۔نمبر ایک روزہ رکھنا تم پر اس طرح فرض ہے جس طرح پہلوں پر فرض کیا گیا ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ پہلوں پر ماہ رمضان میں اسی طرح روزے فرض کئے گئے تھے جس طرح مسلمان پر کئے گئے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلوں پر بھی روزے فرض کئے گئے تھے اور انہیں حکم دیا گیا تھا کہ اپنی اپنی شریعت کے احکام کے مطابق روزے رکھو اور تمہیں بھی یہی حکم ہے کہ اپنی شریعت کے مطابق روزے رکھو تو جس طرح پہلوں پر فرض تھا کہ وہ اپنی شرائع کے مطابق اور ان کے احکام کی پابندی کرتے ہوئے روزے رکھیں۔اسی طرح تم پر فرض ہے کہ تم اپنی شریعت کے مطابق اور ان کے احکام کی پابندی کرتے ہوئے روزے ان دنوں میں جن دنوں میں روزہ رکھنے کا حکم ہے۔ان شرائط کے ساتھ جن شرائط کے ساتھ روزہ رکھنے کا حکم ہے۔تو روزہ رکھنے کا جو حکم ہے وہ مختلف ہے شریعت شریعت میں۔لیکن بنیادی حکم جو ہے وہ ایک ہی ہے کہ اپنی شریعت کے مطابق جو شریعت کے احکام ہیں ان کو مدنظر رکھتے ہوئے بتائے ہوئے طریق پر روزے رکھو۔دوسرے یہ کہا گیا ہے کہ روزہ رکھنا روحانی اور اخلاقی کمزوریاں دور کرنے کا ذریعہ ہے۔تقویٰ پیدا کرتا ہے۔اب ظاہر ہے ( پہلا مضمون بھی اس سے واضح ہوتا ہے ) کہ پہلوں کی روحانی کمزوریاں اور قسم کی تھیں اور ان کی اخلاقی حالتیں کچھ اور رنگ رکھتی تھیں۔لیکن انسان ارتقائی مدارج میں سے گزرتا ہوا اس حالت کو پہنچ گیا کہ قرآن کریم کی شریعت کا متحمل ہو سکے تو اب اس کی ضرورت کے مطابق اور اس کی طاقت اور قابلیت اور صلاحیت کے مطابق اس کو قرآن کریم نے حکم دیئے۔پہلی شریعتوں کا بھی مقصد یہی تھا کہ ان کے ماننے والوں کی روحانی اور اخلاقی کمزوریاں دور ہوں۔لیکن ضرورتیں اور تھیں احکام اور تھے اور