خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 297 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 297

خطبات ناصر جلد هشتم ۲۹۷ خطبہ جمعہ ۲۷ جولائی ۱۹۷۹ء بھی روزوں کا رکھنا اسی طرح فرض کیا گیا ہے جس طرح ان لوگوں پر فرض کیا گیا تھا جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں تا کہ تم روحانی اور اخلاقی کمزوریوں سے بچو۔آیا ما مَعْدُودَتِ سو تم روزے رکھو چند گنتی کے دن اور تم میں سے جو شخص مریض ہو یا سفر میں ہو تو اسے اور دنوں میں تعداد پوری کرنی ہوگی اور ان لوگوں پر جو اس کی طاقت نہ رکھتے ہوں یعنی روزے کی بطور فدیہ ایک مسکین کا کھانا دینا بشرط استطاعت واجب ہے اور جو شخص پوری فرمانبرداری سے کوئی نیک کام کرے گا تو یہ اس کے لئے بہتر ہوگا اور تم سمجھو تو تمہارا روزے رکھنا تمہارے لئے بہتر ہے۔رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس کے بارہ میں قرآن کریم نازل کیا گیا۔( میں ترجمے میں کوئی تھوڑا سا تر رد و بدل بھی کر رہا ہوں) اور جس مہینے میں قرآن کریم کا نزول ہوا اور قرآن کریم وہ عظیم کتاب ہے جسے تمام انسانوں کے لئے ہدایت بنا کر بھیجا گیا ہے اور جو کھلے دلائل اپنے اندر رکھتا ہے۔ایسے دلائل جو ہدایت پیدا کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی قرآن میں الہی نشان بھی ہیں اس لئے تم میں سے جو شخص بھی اس مہینہ کو پائے یا دیکھے، اس حالت میں کہ نہ وہ مریض ہونہ مسافر اسے چاہیے کہ وہ اس کے روزے رکھے اور جو شخص مریض ہو یا سفر میں ہو تو اس پر اور دنوں میں تعداد پوری کرنا واجب ہوگی۔اللہ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے تنگی نہیں چاہتا اور یہ حکم اس نے اس لئے دیا ہے کہ تم تنگی میں نہ پڑو اور تاکہ تم تعداد کو پورا کرلو اور اس بات پر اللہ کی بڑائی کرو اس نے تم کو ہدایت دی ہے تا کہ تم اس کے شکر گزار بنو۔اور اے رسول ! جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق پوچھیں تو جواب دو کہ میں ان کے پاس ہی ہوں۔جب دعا کرنے والا مجھے پکارے تو میں اس کی دعا کو قبول کرتا ہوں۔سوچاہیے کہ وہ دعا کرنے والے بھی میرے حکم کو قبول کریں اور مجھ پر ایمان لائیں تا وہ ہدایت پائیں۔تمہیں روزہ رکھنے کی راتوں میں اپنی بیویوں کے پاس جانے کی اجازت ہے وہ تمہارے لئے ایک قسم کا لباس ہیں اور تم ان کے لئے ایک قسم کا لباس ہو۔اللہ کو معلوم ہے کہ تم اپنے نفسوں کی حق تلفی کرتے تھے۔اس لئے اس نے تم پر فضل سے توجہ کی اور تمہاری اس حالت کی اصلاح کر دی۔سواب تم بلا تامل ان کے پاس جاؤ اور جو کچھ اللہ نے تمہارے لئے مقدر کیا ہے اس کی