خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 174
خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۷۴ خطبہ جمعہ ۱/۲۷ پریل ۱۹۷۹ء ہر ایک فضیلت کی کنجی اس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اس کو عطا کیا گیا ہے۔جو اس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم از لی ہے۔ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے۔ہم کا فرنعمت ہوں گے۔اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اسی نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اسی کامل نبی کے ذریعہ سے اور اس کے نور سے ملی اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اس کا چہرہ دیکھتے ہیں اسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں میسر آیا ہے۔اس آفتاب ہدایت کی شعاع دھوپ کی طرح ہم پر پڑتی ہے اور اسی وقت تک ہم منور رہ سکتے ہیں جب تک کہ ہم اس کے مقابل پر کھڑے ہیں۔یہ جو میں نے چھوٹا سا اقتباس پڑھا اس میں جو باتیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائی ہیں وہ یہ ہیں: نمبر ایک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو حید حقیقی کو قائم کرنے والے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اللہ تعالیٰ سے انتہائی درجہ پر محبت کرنے والے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم انتہائی درجہ پر بنی نوع کے ہمدرد اور غمخوار ہیں۔اور اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انبیاء پر فضیلت بخشی۔اور پانچویں یہ کہ انتہائی محبت آپ نے اپنے رب کریم سے کی اور انتہائی ہمدردی اور غمخواری آپ نے بنی نوع سے کی اسلئے اللہ تعالیٰ نے ایک طرف تمام انبیاء پر آپ کو فضیلت بخشی اور دوسری طرف آپ کو بنی نوع انسان کے لئے حقیقی معنی میں اور یقینی طور پر محسن اعظم بنا کر بھیجا۔اتنا احسان ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نوع انسانی پر کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ آپ سر چشمہ ہیں ہر ایک فیض کا۔کوئی فیض بنی نوع انسان کے اندر بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جاری نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس فیض کا تعلق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سرچشمہ سے نہ ہو۔ہر فیض ہر انسان نے ، ( فیض چھوٹا ہو یا بڑا) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ہی حاصل کرنا ہے اور وہ شخص جو یہ اقرار نہ کرے اور کہے کہ میں خدا تعالیٰ کے فیض کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق پیدا کئے