خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 173 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 173

خطبات ناصر جلد هشتم ۱۷۳ خطبہ جمعہ ۷ ۱۷۲ پریل ۱۹۷۹ء بھول گئی تھی ، وہ یہ کہ خدا کا پیار اگر حاصل کرنا ہو تو محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی کامل اتباع کرنی پڑے گی اور کامل اتباع کا ایک تقاضایہ بھی ہے کہ پیار کرنا پڑے گا محمد صلی اللہ علیہ آلہ وسلم سے بغیر حقیقی پیار کے انسان اتباع نہیں کیا کرتا اور اس کا اعلان خود اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ کہہ کے کیا که قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران: ۳۲) قیامت تک کے انسان کو کہہ دواے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کہ اگر تم خدا تعالیٰ سے پیار کرتے ہو حقیقی پیار اور چاہتے ہو کہ خدا بھی تم سے پیار کرے تو خدا کے پیار کو حاصل کرنے کا طریق اور خدا سے پیار کے اظہار کرنے کا طریق یہ ہے (اتَّبِعُوني ) کہ مد صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع کرو۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا يُحبكم الله ، اللہ تعالیٰ کے پیار کو تم حاصل کر لو گے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور آپ کے جلال اور آپ کے مقام کو پہچاننا اور ہر وقت اس عظمت و جلال کو سامنے رکھ کر آپ پر درود بھیجتے رہنا یہ ایک احمدی مسلمان کا بنیادی فرض ہے، یہ دوسرا سبق ہے جو ہمیں سکھایا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے متعلق بہت کچھ لکھا ہے۔میں صرف ایک چھوٹا سا حوالہ اس وقت آپ کو سنانا چاہتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں۔میں ہمیشہ تعجب کی نگہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے ( ہزار ہزار وو درود اور سلام اس پر ) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہوسکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی۔اس لئے خدا نے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا اس کو تمام انبیاء اور تمام اولین اور آخرین پر فضیلت بخشی اور اس کی مرادیں اس کی زندگی میں اس کو دیں۔وہی ہے جو سر چشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اس کے کسی فضیلت کا دعویٰ کرتا ہے وہ انسان نہیں ہے بلکہ ذریت شیطان ہے کیونکہ