خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 105
خطبات ناصر جلد هشتم ۱۰۵ خطبہ جمعہ ۱۶ / مارچ ۱۹۷۹ء لنگر خانوں میں پہنچا دو اور جوز ائد پکا سکیں یعنی جتنی پانی ہیں اس سے سیر ، ڈیڑھ سیر ، دوسیر جتنی بھی زیادہ پکا سکیں پکائیں اور پہنچا دیں۔ہزاروں احمدی مخلص ایسے تھے جنہوں نے کہا مجھے بعد میں بتا یا کئیوں نے۔انہوں نے کہا ایک روٹی کھائی جائے تو کیا فرق پڑتا ہے۔تین دن ہم ایک ہی روٹی کھاتے ہیں مر تو نہیں جاتے ، کمزور تو نہیں ہو جاتے ، دبلے تو نہیں ہو جاتے ، تکلیف ہمیں کوئی ایسی نہیں ہے۔اس بات میں زیادہ خوشی ہے ایک احمدی کو کہ اس کا بھائی بھوکا نہ رہے بجائے اس کے کہ وہ خود سیر ہو جائے اور اس کا پیٹ بھر جائے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو توڑنے والا ہو کہ بھوکا رہتے ہوئے تم ابھی بھوک کا احساس ہو تو چھوڑ دو۔، جب میں نے پہلا خطبہ دیا تھا اسی سلسلے میں تو وہ چھپا الفضل میں۔غالباً ضلع جہلم یا گجرات سے ایک غیر احمدی دوست کا مجھے خط آیا کہ آپ نے یہ تحریک کی ہے بڑی اچھی تحریک ہے پر ہم نے آپ کا کیا گناہ کیا ہے کہ آپ نے یہ شرط لگا دی کہ کوئی احمدی بھوکا نہ رہے یہ کیوں نہیں کہا کہ کوئی شخص بھی بھوکا نہ رہے۔تو میں نے کہا یہ اس لئے میں نے نہیں کہا کہ آپ لوگ غصے ہو جا ئیں گے مجھ سے کہ ہمارا ذکر کیوں کرتے ہیں۔ویسے تو میں نے جیسا کہ بتایا ہے ہر وہ شخص کوئی اس کا عقیدہ ہو کوئی فرقہ ہو پہلا فرض تو یہی ہے نا کہ جو محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا اس پر وہ عمل کرے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ دوکا کھانا چار کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔بغیر ضرورت کے یہ بات کہہ دی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ؟ اسی لئے کی تھی کہ بعض حالات ایسے پیدا ہو جائیں گے تمہاری زندگی میں جب دو کا کھانا چار کو کھلانا پڑے گا۔تو اگرتم نہ مانو بات اپنے آقا کی تو تمہاری ذمہ داری ہے۔جس جماعت کی میری ذمہ واری ہے، خدا نے میرے اوپر جن کی ذمہ واری ڈال دی ہے ان کو ذکر کے حکم کے مطابق یاد دلاتے رہنا اور کوشش کر نا حتی الوسع کہ کسی کو بھی کوئی دکھ نہ پہنچے کسی تنگی کا احساس نہ ہو یہ احساس نہ ہو کہ میں بھوکا تھا اور مجھے پوچھنے والا کوئی نہیں تھا۔کیسے نہیں پوچھنے والا۔یعنی خدا تعالیٰ نے ایک انقلاب عظیم بپا کر دیا دنیا میں ، مہدی آگئے ، دنیا میں تبلیغ اسلام شروع ہو گئی ، لاکھوں کی تعداد میں عیسائی اور دوسرے مذاہب والے اسلام میں داخل ہونا شروع ہو گئے ، اسلامی معاشرہ جو ہے وہ آہستہ آہستہ زندگیوں میں قائم ہوا۔