خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 104
خطبات ناصر جلد هشتم ۱۰۴ خطبہ جمعہ ۱۶ / مارچ ۱۹۷۹ء کے مطابق کھیتوں کو صاف رکھا، نلائی کی جڑی بوٹیاں وہاں سے نکال دیں، ہرے بھرے کھیت ہیں پراے خدا! اگانا تو نے ہی ہے یہ ہمیں پتا ہے۔اس واسطے ہم پر رحم کر، ہم سے رحم کا سلوک کر اور ہماری کھیتیوں کے نتائج جو نکلیں یعنی جو دانے آئیں وہ اس کے مطابق ہوں جو نظر آرہے ہوں۔یہ پچھلے سال ہی ہمارے اس علاقے میں مونجی کے کھیتوں میں اور اس سے پہلے گندم میں بھی کھیتیاں بتارہی تھیں کہ ۴۵ من نکلے گی اس کھیت سے اور نکل پچیش "من۔اور پتا ہی نہیں لگا زمیندار کو یہ ہو کیا گیا ہے اور پتا لگنا چاہیے تھا کہ ہو یہ گیا ہے کہ خدا نے نہیں چاہا کہ تم اس سے پرے ہٹو اور دعاؤں کے بغیر اپنی زندگی کے دن گزارو۔تو دعاؤں کے ساتھ اس کے فضل کو جذب کرو اور اس کے بندوں سے حسن سلوک کر کے اور پیار کر کے اور اس کے بندوں کے دکھوں اور تکلیفوں کو دور کرنے کی تجاویز کر کے اس سے یہ چا ہو کہ تمہیں بھی وہ مولا قادر مطلق خدا جو ہے وہ تکالیف سے اور دکھوں سے بچائے اور محفوظ رکھے کیونکہ آخر میں اسی نے دکھوں سے بچانا اور تکالیف سے محفوظ رکھنا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو اس کی سمجھ عطا کرے اور ہمیں دعائیں کرنے کی توفیق عطا کرے اور ہماری دعاؤں کو قبول کرے محض اپنے فضل سے اور اس کے نتیجہ میں پاکستان بھوکا نہ رہے اور دنیا کے سامنے اس کو شرمندہ نہ ہونا پڑے کہ ہم اپنی ضرورت کے مطابق فصلیں نہیں اُگا سکے بوجہ اس کے کہ ہم نے اپنے خدا کو چھوڑ دیا اور اس کو بھلا دیا اور اب دوسروں سے ہمیں مانگنے کی ضرورت پڑی۔اور دوسرے ہر احمدی یہ عزم کرے کہ کوئی دوسرا جو ہے وہ رات کو بھوکا نہیں سوئے گا۔فرق ہی کچھ نہیں پڑتا۔دیکھو ہم نے دیکھا آپ میں سے بہت سارے گواہ ہیں ایک جلسے پر انتظام خراب ہو گیا تھا۔صبح کی نماز کے وقت مجھے اطلاع ملی۔میں نے نماز کے بعد دوستوں کو کھڑا کیا۔میں نے کہا کچھ انتظام تھوڑ اسا خراب ہے حالانکہ وہ ایک وقت خراب رہا تھا۔تو میں نے کہا کہ یہ چیزیں تو ہمارے رستے میں روک نہیں بنتیں۔روٹی زیادہ نہیں ، کافی نہیں پک سکی اس واسطے میں اعلان کرتا ہوں کہ جو گھروں میں اپنا روٹی کھانا پکا کے کھانے والے ہیں روٹیاں پکاتے ہیں وہ بھی ایک روٹی کھائیں گے اور ہمارے مہمان بھی ایک روٹی کھائیں گے اور جو تمہاری بچ جائے وہ