خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 87 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 87

خطبات ناصر جلد هشتم ۸۷ خطبہ جمعہ ۹ / مارچ ۱۹۷۹ء رہنے والے ہیں۔ان آیات کی روشنی میں ہمیں تین گروہ نظر آئے اور وَلَا تُسْتَلُ عَنْ أَصْحِبِ الْجَحِيمِ کے یہ معنی ہوں گے کہ اے محمد ! تجھ سے اس بات پر باز پرس نہیں ہوگی کہ جب تو نے دنیا پر اسلام کو پیش کیا اور صداقت کے دلائل جو خدا تعالیٰ نے ظاہر کئے تھے اور نشانات آسمانی جو تیری صداقت کے لئے آئے تھے وہ تو نے بتائے اور تبلیغ کی اور دعوت دی کہ یہ حق ہے اس کی طرف آؤ۔لیکن جہاں ایک حصہ نے ان کو قبول کیا وہاں ایک دوسرا حصہ تھا جنہوں نے قبول نہیں کیا اور وہ کا فربن گئے تو کافروں کے متعلق تجھ سے یہ باز پرس نہیں ہوگی ، یہ پوچھ گچھ نہیں ہوگی کہ کیوں وہ کفر کی حالت میں مرے اور ایمان نہیں لائے۔یہ تیری ذمہ داری نہیں ہے۔تیرا کام صرف البلاغ ہے، دعوت دینا ہے، سمجھانا ہے، ان کے لئے دعائیں کرنا ہے لیکن ہدایت پانے والے نے خودا پنی مرضی سے ہدایت پانی ہے اگر اللہ تعالیٰ اُسے اس کی توفیق دے یا بد قسمت ہوگا اور توفیق نہ پائے گا تو انکار کرے گا۔بہر حال محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی الزام عائد نہیں ہوتا کہ کیوں اتنے دلائل سننے کے بعد اور معجزات دیکھنے کے بعد ایک دنیا منکرین کے گروہ میں شامل ہوئی اور انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور محمد کے خدا کا کفر کیا۔دوسرے اس کے یہ معنی ہوں گے کہ وَلَا تُسْتَلُ عَنْ أَصْحَب الْجَحِيمِ کہ وہ لوگ جو ایمان لائے ، جنہوں نے کہا کہ ہم خدا اور رسول کی اطاعت کا جوا اپنی گردنوں پر رکھتے ہیں لیکن ان کا یہ دعوی صرف زبان سے تھا عملاً انہوں نے ایثار اور قربانی اور وفا اور ثبات قدم کی راہوں کو اختیار کرنے کی بجائے نفاق کی راہوں کو اختیار کیا اور خدا اور رسول سے محبت کر کے اور خدا کی مخلوق سے شفقت کر کے ان کی اسلامی تعلیم اور ہدایت کے مطابق خدمت کرنے کی بجائے فتنہ پیدا کیا اور فساد پیدا کیا اور وسوسے پیدا کئے اور نفاق کی چالوں کو پسند کیا وفا کو چھوڑ کر اور منافق نے کیوں نفاق اختیار کیا ؟ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ باز پرس نہیں ہوگی۔فرمایا، تیرا کام یہ نہیں کہ ایمان لانے والے کو اس بات پر مجبور کرے کہ وہ ایمان کے تقاضوں کو بھی پورا کرنے والا ہو۔ایمان کے تقاضوں کو اپنی مرضی سے پورے کرنے والے جو ہیں انہوں نے خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل