خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 86
خطبات ناصر جلد هشتم ۸۶ خطبہ جمعہ ۹ / مارچ ۱۹۷۹ء أَصْحَبُ الْجَحِيمُ يا اصحبُ النَّارِ کے الفاظ سے کیا گیا ہے۔ان کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تجھ سے ان تینوں گروہوں کے جہنم میں جانے کے متعلق باز پرس نہیں ہوگی۔پہلا گروہ ان میں سے وہ ہے جس کا ذکر سورۃ مائدہ کی آیت ! میں بیان ہوا۔فرمایا وَ الَّذِینَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِأَيْتِنَا أُولَبِكَ اَصْحَبُ الْجَحِيمِ (المائدة : 1 ) وہ لوگ جنہوں نے کفر کی راہوں کو اختیار کیا اور اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا، جو دلائل صداقت کے تھے ان کی تکذیب کی اور خدا تعالیٰ کی آیتوں کو جھٹلایا أوليكَ اَصْحَبُ الْجَحِيمِ۔یہ لوگ خدا تعالیٰ کے نزدیک اَصْحَبُ الْجَحِيمِ ہیں ، دوزخ میں پھینکے جائیں گے۔یہ گروہ جو ہے آگ میں پڑنے والا ہے۔دوسرا گروہ جو آگ میں پڑنے والا ہے قرآن کریم کی اصطلاح میں ، یہ بھی ایک بڑا گروہ ہے جس کا ذکر سورۃ نساء کی آیت ۱۴۶ میں ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ الْمُنْفِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ کہ منافق یقیناً جہنم کی گہرائی کے سب سے نچلے حصہ میں ہوں گے۔پس ایک تو کفار ہوئے جن کا پہلے ذکر تھا اور دوسرے منافق ہوئے جو قرآن کریم کی اصطلاح میں اصحب الجَحِيمُ یا أَصْحَبُ النَّارِ ہیں۔اور تیسرا گروہ جن کا ذکر قرآن کریم نے اصحبُ النَّارِ کے زمرہ میں کیا ہے وہ یہ ہے۔سورۃ بقرہ کی آیت ۲۱۸ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَنْ يَرْتَدِدُ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرُ فَأُولبِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَ أُولَبِكَ أَصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ تم میں سے جو بھی اپنے دین سے پھر جائے اور راہ ارتداد اختیار کرے پھر وہ طبعی موت مرے اس حالت میں کہ وہ ارتداد کے ذریعہ سے جس کفر میں داخل ہوا تھا ( ایمان کو چھوڑ کے ) اس کفر پر وہ قائم تھا۔تو یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایمان کی حالت میں جو نیکیاں کی تھیں اور جو بظا ہر قربانیاں دی تھیں لیکن بعد میں ارتداد اختیار کیا تو حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وہ نیک اعمال بھی ان کے کسی کام نہیں آئیں گے اور اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ان کی نیکیوں کا بدلہ ثواب اور خدا تعالیٰ کی رضا کی شکل میں نہیں ملے گا۔وَ أُولَبِكَ اَصْحَبُ النَّارِ اور ایسے مرتد جو ہیں وہ اصحبُ النَّارِ ہیں، أَصْحَبُ الْجَحِيمُ ہیں۔دوزخی ہیں، دوزخ کی آگ میں پڑنے والے ہیں اور لمبا عرصہ اس میں