خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 827
خطبات ناصر جلد هشتم ۸۲۷ خطبہ جمعہ ۱۲ / دسمبر ۱۹۸۰ء آیا ، کب ختم ہو گیا۔ڈیڑھ دو لاکھ آدمیوں کی رہائش کا انتظام کرنا ، ان کے کھانے کا انتظام کرنا ان کی صحت کا خیال رکھنا یہ انسان کا کام نہیں ہے جب تک خدا تعالیٰ کی رحمتیں نازل نہ ہوں ایسا ہو ہی نہیں سکتا عملاً۔ہم سے کہیں زیادہ امیر اور منظم ایسے ادارے میرے علم میں ہیں کہ دس ہزار کو کھانا کھلا نا پڑ گیا تو ایک قیامت بپا ہوگئی۔سمجھ ہی نہیں آرہا کہ کیسے سنبھالیں اس انتظام کو لیکن اس جلسہ میں جو حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے اللہ تعالیٰ کی منشا کے مطابق جاری کیا یہ احساس ہی نہیں آپ کو ہوتا کہ اتنا بڑا انتظام بھی کرنے کی ضرورت ہے۔سب کام خدا تعالیٰ خود ہی کرتا چلا جاتا ہے۔جو خدا کرتا ہے اس کا کریڈٹ (Credit) آپ کو تو نہیں جاتا۔وہ تو خدا نے کیا خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ وہ کرتا ہے۔دعاؤں کے ساتھ اس کے فضلوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔انکسار کے ساتھ خدا کے حضور عاجزانہ پکار ہونی چاہیے ہماری کہ اے خدا! ہم تیرے عاجز بندے تیرے اس جلسے کو نہیں سنبھال سکتے اگر تیری مدد کا ہاتھ ہمارے شامل حال نہ ہو۔جلسہ اب قریب آ گیا ہے اس لئے آپ جہاں دنیوی تدابیر اس جلسے کی کامیابی کے لئے کریں اپنی ذمہ داریوں کو مادی دنیا میں نبھانے کے لئے ، وہاں بہت زیادہ دعائیں کریں اللہ تعالیٰ سے کہ جس طرح ہمیشہ اپنی رحمتوں سے نوازتا اور ہمارے جلسہ میں برکات کا نزول کرتا اور نعماء کی بارش کرتا ہے اس جلسے کو بھی کامیاب کرے اور پہلے سے زیادہ نعمتیں جماعت احمد یہ اور دنیا اس سے حاصل کرنے والی ہو۔اس جلسہ کی غرض کوئی ذاتی غرض نہیں ، نہ میری نہ آپ کی ، غرض صرف یہ ہے کہ ایک ایسی قوم تیار ہو اور ان کے ذہن میں یہ بات حاضر رہے ہر آن کہ ہم اس لئے پیدا ہوئے ہیں کہ اس دنیا کے دل جو خدا سے دور ہیں خدا اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیتے جائیں۔خدا سے کہیں ہم تیرے نالائق مزدور سہی لیکن ہیں تیرے مزدور ، ہماری مدد کر اور ہمیں کامیاب فرما۔آمین ایک اور بات میں سپین کی تاریخ کے متعلق کہنا چاہتا ہوں ہماری رپورٹوں میں دو بظاہر متضاد باتیں آگئی ہیں۔بعض دفعہ یہ لکھا گیا کہ جس مسجد کی قرطبہ کے قریب میں نے بنیا د رکھی یا قرطبہ ہی کہنا چاہیے کیونکہ وہ اس کا حصہ ہی ہے قریباً وہاں جس مسجد کی بنیاد میں نے رکھی سات سو