خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 828 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 828

خطبات ناصر جلد هشتم ۸۲۸ خطبه جمعه ۱۲ / دسمبر ۱۹۸۰ء سال کے بعد یہ واقعہ ہوا۔بعض میں ہے کہ پانچ سو سال کے بعد ہوا۔یہ دونوں باتیں اپنی جگہ صحیح ہیں۔اس لئے میں مختصر طور پر آپ کو تاریخ کے بعض واقعات بتاؤں گا اس وقت۔طارق بن زیاد ۷۱۰ء میں پہلی بار چین کے ساحل پر اترے۔مؤرخین کا اختلاف ہے کس قدر مسلمان مجاہد ان کے ساتھ تھے لیکن زیادہ تر ) کا ) یہ خیال ہے کہ وہ آٹھ ہزار مجاہدین کے ساتھ اترے وہاں۔چار ہزار کی کمک انہیں بعد میں مل گئی ، تو بارہ ہزار مجاہدین ان کے ساتھ تھے۔اس قدر خدا تعالیٰ پر توکل کہ جن کشتیوں پر سوار ہو کر وہ ساحل پین پر پہنچے تھے اترنے کے ساتھ ہی ان کو نذر آتش کر دیا۔بعض ان کے ماتحت جرنیلوں نے کہا بھی کہ یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا ہم خدا کا نام بلند کرنے کے لئے آئے ہیں وہ ہمیں نا کام نہیں کرے گا اور ہمیں یہاں سے بھاگنا نہیں پڑے گا۔ہم نے کشتیاں یہاں رکھ کے کیا کرنی ہیں اور چند سالوں کے اندر قریباً سارا سپین فتح ہو گیا، شمال کا ایک حصہ رہ گیا تھا۔اس کو مسلمانوں نے نہیں چھیڑا۔وہ پہاڑی علاقہ تھا اور اس طرف انہوں نے توجہ نہیں کی کیونکہ وہاں برفانی علاقہ تھا اور یہ افریقہ کے صحرا سے آنے والے سردی سے گھبرائے یا اور وجوہات ہوں گی ہمیں علم نہیں۔بہر حال وہ حصہ رہ گیا جو باقی حصے تھے وہ یکے بعد دیگرے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے فتوحات حاصل کرتے رہے، آگے بڑھتے رہے اور ان پہاڑوں کو جن کو انہوں نے پھر ہاتھ نہیں لگایا ان پہاڑوں کے دامن تک پہنچ گئے۔اور کھڑے ہو گئے۔یہ ۷۱۰ء کی بات ہے اس واسطے جب ہم سپین کی اسلامی فتح سے تاریخیں نکالیں تو اس کو مرکزی نقطۂ نگاہ بنائیں گے یہ نہیں کہ دوسال کے بعد غرناطہ فتح کیا اور چار سال کے بعد قرطبہ فتح کیا اور اتنے سال کے بعد انہوں نے طلیطلہ فتح کیا وغیرہ وغیرہ کیونکہ اتنی جلدی سب کچھ ہوا ہے جس طرح ٹھنڈی ہوائیں بارانِ رحمت گھنٹوں میں ایک لمبے خطہ ارض پر بارش برسا دیتی ہیں اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت جو تھی۔وہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس سارے ملک پر بڑی جلدی برسادی۔تو ۷۱۰ء میں سپین فتح ہوا اور پھر جب تنزل شروع ہو جاتا ہے تو طلیطلہ جو عیسائیوں کا دارالخلافہ بھی تھا۔وہ عیسائیوں کے قبضے میں چلا گیا ۱۰۸۵ء میں یعنی یہ کوئی ۵۱۴ سال کے بعد