خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 813
خطبات ناصر جلد ہشتم ۸۱۳ خطبه جمعه ۲۸ /نومبر ۱۹۸۰ء ہے جو چلتا ہے مثلاً یہ جو بڑے قیمتی ہیرے، ابھی چند دن ہوئے ایک ایسے ہیرے کے متعلق خبر تھی کہ وہ ساٹھ لاکھ ڈالر کو بکا تو جس کا مطلب ہے چھ کڑور روپے کا لیکن خدا ایک دن میں بھی وہ پیدا کر سکتا ہے لیکن خدا تعالیٰ نے اپنی صفت خلق میں تدریج کا اصول جاری کیا ہے۔مٹی زمین کے اندر مٹی کے ذرے عام مٹی کے ذرے ہزار ہا لکھوکھہا سال کے بعد پتا نہیں کون سے اصول ہیں ہمیں نہیں پتا ابھی تک انسان کو مگر بہر حال خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے وہ اصول ہیں وہ ہیرا بن جاتا ہے کوئی لعل بن جاتا ہے کوئی زمرد بن جاتا ہے کوئی مینڈک بن جاتا ہے کوئی چھپکلی بن جاتے ہیں ذرے کوئی انسان بن جاتا ہے اور انسان سے فرعون بن جاتا ہے۔بیوقوف انسان تو اپنی حیثیت کو پہچان۔جہاں تک احتیاج کا سوال ہے ایک انسان کی زندگی اور اس کے قائم رہنے کا یعنی اس کو جو صفات خدا تعالیٰ نے دی ہیں عقل دی ہے ، فراست دی ہے، آگے بڑھنے کا ایک جذبہ دیا ہے۔تحقیق کا ایک جوش دیا ہے اور آگے وہ بڑھ رہا ہے دنیا کے ہر میدان میں۔جہاں تک احتیاج کا سوال ہے یہ انسان بھی خدا کا محتاج ہے اور ایک سانپ بھی خدا کا محتاج اور چھپکلی اور چھچھوندر بھی خدا کی محتاج اور ایک مینڈک بھی اسی طرح خدا کا محتاج ہے۔تو جہاں تک احتیاج کا سوال ہے تم میں اور ایک گدھے میں یا ایک چھپکلی میں ، ایک چھچھوندر میں اور یا ایک سانپ میں کوئی فرق نہیں ہے۔اپنے مقام کو انسان کو پہچانا چاہیے اور خدا تعالیٰ کی عظمتیں ہر وقت سامنے رکھنی چاہئیں یعنی وہ حاضر رہیں دل و دماغ میں۔اُس کو عربی کا لفظ ” قلب“ کہتے ہیں۔وہ یہی ہے کہ انسان کی جو کانٹس مائنڈ (Consicous mind) ہے۔کانشس مائنڈ ، بھولتا نہیں۔اس کے اندر ہر وقت خدا تعالیٰ کی عظمت ہوتی ہے اس کی ذات کی بھی اور اس کی صفات کی بھی ، اس کو ذکر کہتے ہیں اور ذکر کے معنی میں یہ ہے کہ جو عظمت انسان اپنے دل و دماغ میں پہچانتا ہے اس کا ذکر بھی کرے، تسبیح کرے، اس کی تحمید کرے، اپنی جو کمزوریاں ہیں اس کا اظہار کرے، اس سے مانگے کہ اس سے جب تک وہ نہ دے مل نہیں سکتا۔دعا کا ایک سلسلہ انسان کے لئے جاری کیا اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لكُم (المؤمن : ۶۱ ) اتنی بڑی بشارت اور وعدہ کر لیا انسان سے۔ابھی پیچھے جیسے ایک احمدی نہیں وہ