خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 810 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 810

خطبات ناصر جلد ہشتم ۸۱۰ خطبه جمعه ۲۸ /نومبر ۱۹۸۰ء سال میں کسی مہینے کے ساتھ اس کا تعلق نہیں ، عمر بھر میں کسی ایک موقع کے ساتھ نہیں کہ فرض انسان پر ساری عمر میں ایک دفعہ آیا ہے۔حج جو ہے ساری عمر میں انسان پر ایک دفعہ ہوتا ہے۔مال کے ساتھ یعنی جو اس کے لئے زکوۃ کے یہ شرائط ہیں وہ جب پوری ہو جا ئیں تو اس وقت زکوۃ نکالنی پڑتی ہے اس قسم کے نہیں ہیں بلکہ فرمایا کہ قیما وَقُعُودًا وَ عَلَى جُنُوبِهِمْ (ال عمران : ۱۹۲) کھڑے ہوئے، بیٹھے ہوئے ، لیٹے ہوئے ، ہر وقت ذکر الہی میں مشغول رہنا چاہیے۔ذکر معنے واضح بھی ہیں اور مفردات راغب نے بھی اس پر روشنی ڈالی ہے۔”الراغب“ کی کتاب ہے ” مفردات راغب اس قرآن کریم کے معانی پر۔یہ بڑے بزرگ عالم بھی ہیں صرف لغت کے لکھنے والے نہیں۔انہوں نے مختلف اس کے پہلوؤں پر، ذکر کے پہلوؤں پر بحث کی ہے۔میں نے ان میں سے اٹھائے ہیں پوائنٹس (Points)۔وہ لکھتے ہیں کہ ذکر حقیقتا انسانی نفس کی ایک کیفیت ہے اور یہ ایسی کیفیت ہے جس میں نفس انسانی اللہ تعالیٰ کی معرفت کی باتیں یاد رکھتا ہے، دل سے اور زبان سے ان کا اظہار کرتا ہے۔استحضار ہے یعنی خدا تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات اللہ تعالیٰ کی جو عظمتیں جو ہیں اپنی ذات کے لحاظ سے اور اپنی صفات کے لحاظ سے وہ انسانی دل و دماغ میں، انسان کے قلب میں حاضر رہتی ہیں۔انسان سوچتا ہے ہر وقت اور یہ ذکر جو ہے یہ مستقل ہر آن کا ایک تعلق ہے جو بندے کا اپنے رب کے ساتھ ہے اور اس کی مثال میں انہوں نے کہا ہے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكَرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا (البقرة : ٢٠) اسی طرح وَ لَذِكْرُ اللهِ أَكْبَرُ (العنکبوت: ۴۶) اس کے معنی انہوں نے بڑے ایک لطیف کئے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ وَ لَذِكْرُ الله اکبر اس کے یہ معنی ہیں کہ ذِكْرُ اللَّهِ لِعَبْدِهِ أَكْبَرُ مِنْ ذِكْرِ الْعَبْدِلۂ کہ خدا تعالیٰ اپنے بندے کو جس قدر یا درکھتا ہے بندہ اتنا نہیں اسے یا درکھتا اور یہ بد قسمتی ہے۔اتنا رحم کرنے والا خدا اور ہم اس کو بھول جائیں ہمیشہ کے لئے بعض بھول جاتے ہیں یا عارضی طور پر بھول جائیں تو بڑی بد بختی ہے۔ہر آن اور ہر وقت اللہ تعالیٰ نے جو ہمیں یادرکھا ہے اس کا اظہار پتا کیسے کیا ؟ سَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّبُواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ (الجاثية : ۱۴) ابھی انسان نے اپنے رب کے حضور کچھ پیش بھی نہیں کیا۔پیدا بھی نہیں ہوا انسان لیکن خدا تعالیٰ نے