خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 809
خطبات ناصر جلد ہشتم 109 خطبه جمعه ۲۸ / نومبر ۱۹۸۰ء تعلق باللہ اور ذکر الہی کی تاکید خطبه جمعه فرموده ۲۸ نومبر ۱۹۸۰ء بمقام مسجد احمد یہ۔اسلام آباد تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اسلام میں دو قسم کی عبادات ہیں۔ایک فرض ہے جیسے پانچ وقت روزانہ مسجد میں اگر کوئی عذر مانع نہ ہو نماز ادا کرنا، روزے رکھنا، زکوۃ دینا، حج کرنا یہ ارکان ہیں ضروری فرائض۔بعض اس کے مقابلے میں فرائض کے نوافل ہیں۔نوافل آگے دو قسم کے ہیں۔ایک نوافل ہیں جن کا تعلق فرائض کے ساتھ ہے مثلاً فرض نماز کے علاوہ ہم سنیں اور دوسرے نوافل ادا کرتے ہیں۔فرضی روزے جو رمضان میں ہیں اُن کے علاوہ ہم نفلی روزے رکھتے ہیں۔فرضی حج کے علاوہ ہم عمرہ کرتے ہیں۔فرضی زکوۃ کے علاوہ ہم صدقات دیتے ہیں۔ایک تو یہ نوافل ہیں جو ایک فائدہ یہ دیتے ہیں کہ جو خامی رہ جائے انسان کی فرضی عبادت میں اس کو یہ پورا کرتے ہیں۔ایک معنی میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کر کے ان خامیوں کو دور کرنے کی توفیق انسان کو عطا کر دیتے ہیں لیکن ایک نفلی عبادت بھی ہے اور ضروری بھی ہے اور وہ بنیا د بنتی ہے تمام عبادات کی خواہ وہ عبادات فرائض میں سے ہوں یا نوافل میں سے ہوں اور اسلام نے اُسے ذکر کے نام سے یاد کیا ہے۔ذکر باری، اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا اور چوبیس گھنٹے کا جو دن ہے اس دن میں کسی وقت کے ساتھ اس کا تعلق نہیں،