خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 783 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 783

خطبات ناصر جلد هشتم ۷۸۳ خطبہ جمعہ ۷ /نومبر ۱۹۸۰ء جس کے دل میں ابھی ایمان نہیں گیا اس کو خدا تعالیٰ جو دلوں کا جاننے والا ہے وہ کہتا ہے تم اپنے آپ کو مسلمان کہہ سکتے ہو باوجود اس کے کہ تمہارے دلوں میں ایمان داخل ہی نہیں ہوا۔تو وہ لوگ جو دلوں کا حال نہیں جانتے اور کوئی بھی نہیں جو کسی دوسرے کے دل کا حال جانے۔اس کو کیسے اجازت مل گئی کہ کسی اور کو دائرہ اسلام سے خارج کرے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو اگر ایمان ہو دل میں تو اللہ اور رسول کی اطاعت ہوا کرتی ہے۔تم ایمان کا دعویٰ کرتے ہو تمہارے دل ایمان سے خالی۔نتیجہ یہ ہے کہ تمہارے اعمال جو ہیں ان میں خدا اور رسول کی اطاعت کی جھلک نہیں نظر آتی اور یہ نا سمجھی کی بات ہے تم ڈرتے ہو کہ اسلامی احکام پر عمل کر کے تم دنیوی نقصان اٹھاؤ گے خدا کہتا ہے اس غلط نتیجہ پر تم پہنچے ہوا اگر تم خدا کی اطاعت کرو اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے لئے اسوہ بناؤ اور آپ کی زندگی کے مطابق اپنی زندگی گزار و تولَا يَلتُكُمْ مِّنْ أَعْمَالِكُمْ شَيْئًا وہ تمہارے اعمال میں سے کوئی عمل بھی ضائع نہیں ہونے دے گا۔تمہیں اسی دنیا میں ثمرات اسلام ملنے شروع ہو جا ئیں گے لیکن تم دنیا کی طرف مائل ہو گئے اور تمہارے دل ایمان سے خالی اور تمہارے عمل اطاعت خدائے باری اور اطاعتِ رسول کے حسن سے کوئی حصہ نہیں رکھنے والے یعنی محسن کی بجائے بدصورتی جھلکتی ہے تمہارے اعمال میں ، اس واسطے باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ تم پر رحم کرنا چاہتا ہے تم نے خود کو رحم سے محروم کر لیا ہے اور پھر تمہیں اس کا احساس نہیں۔خدا تو غفور ہے لیکن تم اس سے مغفرت نہیں مانگتے ، استغفار نہیں کرتے اور خدا تو رحیم ہے اور تم رحم کی بھیک اس سے نہیں مانگتے۔خود کو یا دنیا کی طاقتوں کو یا دنیا کے اموال کو یاد نیا کی عرب توں کو کچھ سمجھنے لگ گئے ہو اس لئے تمہیں کچھ بھی نہیں ملتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اسی سورۃ میں مومن تو وہ ہیں الَّذِينَ آمَنُوا بِاللهِ وَرَسُولِہ جو اللہ اور رسول پر ایمان لاتے ہیں۔ایمان کے معنی جو کئے گئے ہیں اس کی رو سے ایمان کی جڑ دل میں ہے۔دل میں ایمان کی جڑ لگتی ہے جس طرح ایک پودا زمین میں لگایا جاتا ہے نا ایمان قلب میں لگایا جاتا ہے اور اس بیج سے یا اس پودے سے دوشاخیں نکلتی ہیں ایک ہے زبان سے اقرار کہ عین دل کے مطابق زبان سے اقرار نکلتا ہے مثلاً اللہ پر ایمان لائے لیکن اللہ تعالیٰ کی صفات کا ورد نہیں کرتے۔کہتے ہو ہم خدا پر ایمان لائے لیکن تو حید باری کی