خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 766
خطبات ناصر جلد ہشتم خطبه جمعه ۳۱ اکتوبر ۱۹۸۰ء رحمت سے اپنے ایک بندہ کے ذریعہ سے آج سے قریباً ۴۶ سال قبل ان نعمتوں کے قیام اور اجرا کے سامان پیدا کئے۔اللہ تعالیٰ اُس ہمارے محبوب کے درجات کو بہت بلند کرے اور جو تحریکیں اس نے شروع کی تھیں ان کے ذریعہ سے جماعت پر اپنی نعمتوں میں اور اضافہ کرے اور ہمیں اپنے بزرگوں کے نقشے قدم پر چل کر اسی طرح جس طرح انہوں نے پا یا ہمیں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے سامان ملیں۔۴۶ سال قبل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قائم کردہ اس جماعت کی جو حالت تھی وہ آج سے مختلف تھی۔آج تک جتنا زمانہ گزرا ہے قریباً نصف زمانہ گزرا تھا اس کے مقابل اُس وقت جماعت کو قائم ہوئے اور جیسا کہ بتایا گیا تھا اور تسلی دی گئی تھی آہستہ آہستہ جماعت ترقی کرتی چلی جارہی تھی۔یہ آہستہ آہستہ ترقی دو شکلوں میں ظاہر ہو رہی تھی۔ایک آہستہ آہستہ دنیا میں پھیلتی چلی جارہی تھی۔شروع میں تو قادیان یا چند اور شہر تھے جو فیض پارہے تھے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آپ کے ایک عظیم روحانی فرزند کے ذریعہ۔پھر پنجاب میں پھیلنی شروع ہوئی۔پھر پنجاب سے نکل کے ہندوستان میں داخل ہوئی سارے ہندوستان میں۔پھر ہندوستان سے نکلی اور باہر کے ملکوں میں پھیلنے لگی اس طرح جس طرح کوئی اکا دُکا بیچ ہوائیں اڑا کے کسی خطہ ارض میں لے جاتی ہیں اور وہاں ایک نئی قسم کی روئیدگی پیدا ہو جاتی ہے اس طرح یہ خدا سے اور خدا کی مخلوق سے پیار کرنے والی جماعت قائم ہوئی۔کہیں ایک خاندان احمدی ہو گیا کہیں دو ہو گئے مثلاً افریقہ کے ایک ملک میں صرف ایک احمدی ۱۹۳۰ء سے بھی پہلے کے تھے۔نائیجیریا میں اس ملک کے سر براہ گئے تو اس احمدی خاندان کے ایک فردان کے اُس ڈیلیگیشن (Delegation) میں شامل تھے اور جس ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے وہاں نائیجیریا کی جماعت نے قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ ہر، ہر کمرے میں رکھا ہوا تھا اور اس پر اپنے مشن کا پتہ اور ٹیلیفون نمبر بھی درج کیا ہوا تھا۔اُنہوں نے دیکھا اور بڑے حیران ہوئے فون کیا مشن کو اور کہا کہ مجھے پتا ہی نہیں تھا کہ جماعت اتنی ترقی کر گئی اور انہوں نے بتایا کہ ہمارے والد احمدی ہوئے تھے ان کی وفات ہوگئی ۱۹۴۰ء میں اور اس کے بعد ہمارا ملاپ مرکز سے نہیں رہا لیکن ہمارے بھائیوں اور بہنوں کے