خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 706 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 706

خطبات ناصر جلد هشتم 2+Y خطبہ جمعہ ۱۸ جولائی ۱۹۸۰ء ہے اس کو چھوڑ کر اس کو ناراض کر کے ہم کہاں جائیں گے۔انسانوں کی پروا نہ کرو انسان کی حیثیت ہی کیا ہے وہ ایک ایٹم ، ایک ذرہ پیدا کرنے پر بھی قادر نہیں ہے اس لئے بجز خدا کے کسی کی پروانہ کرتے ہوئے ہمیشہ مسکراتے رہو۔صرف خدا سے ڈرو اور ہمیشہ اس فکر میں رہو کہ وہ ناراض نہ ہو جائے۔خدا تعالیٰ کی نگاہ میں مسلمان بنے رہنے کی اہمیت واضح کرنے اور اس سے متعلق بعض اور اُمور کی وضاحت کرنے کے بعد آخر میں حضور نے فرمایا میں نے دو باتیں آپ کو بتائی ہیں۔ایک تو میں نے رَبِّ إِنِّي لِمَا اَنْزَلْتَ إِلَى مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ کی دُعا کرنے کی تلقین کی ہے۔دوسرے میں نے بتایا ہے کہ خدا سے کبھی بے وفائی نہ کرو خدا کے بن کر خدا میں ہو کر زندگی گزار و اور اپنی زندگیوں میں اسلام کا ایسا اعلیٰ نمونہ دکھاؤ کہ یہ لوگ ( مغربی جرمنی کے باشندے) اس دُنیا کی طرف کھینچے چلے آئیں جو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی دُنیا ہے۔پھر حضور انور نے فرمایا ( کل ۱۹ جولائی ۱۹۸۰ء کو) ہمبرگ ہوتے ہوئے سکنڈے نیوین ملکوں میں جانے کا ارادہ ہے۔وہاں ایک نئے مشن کا افتتاح کرنا ہے۔وہاں ایک بلڈنگ ڈیڑھ ملین کرونہ میں ملی ہے اگر مسجد اور مشن ہاؤس کے لئے ہمیں بعد میں اور زیادہ مناسب اور موزوں جگہ مل گئی تو یہ دو تین ملین کرونہ میں پک جائے گی کیونکہ وہاں بھی جائیداد کی قیمتیں برابر بڑھ رہی ہیں۔اللہ تعالیٰ سکنڈے نیوین ملکوں میں اسلام کے پھیلانے اور غالب آنے کے جلد سامان کرے۔آمین چونکہ حضور ایدہ اللہ اگلے روز فرینکفرٹ سے ہمبرگ روانہ ہورہے تھے اس لئے حضور انور نے خطبہ ثانیہ کے دوران احباب فرینکفرٹ کو دعاؤں سے نوازتے ہوئے فرما یا اللہ تعالیٰ آپ کو بھی خیر سے رکھے آپ کا حافظ و ناصر ہو اور آپ کی ہر قسم کی پریشانیاں دور کرے۔آمین۔(روز نامه الفضل ربوه ۱۹ اکتوبر ۱۹۸۰ ء صفحه ۲)