خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 705
خطبات ناصر جلد هشتم ۷۰۵ خطبہ جمعہ ۱۸ جولائی ۱۹۸۰ء دوسرے روحانی لحاظ سے ملک۔دوسری چیز جس کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ذکر کیا ہے وہ ہے عزت۔ایک عزت دنیوی ہوتی ہے اور ایک عزت وہ ہوتی ہے جو اللہ کی نگاہ میں کسی انسان کی ہو اور وہی فی الاصل قائم رہنے والی عزت ہوتی ہے۔سو اس آیت میں چار چیزوں کا ذکر ہے ایک دنیوی ملک کا، دوسرے روحانی ملک کا ، تیسرے دنیوی عزت کا اور چوتھے اس عزت کا جو کسی انسان کی اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہوتی ہے پھر اس میں نفی بھی ہے اور اثبات بھی یعنی ملک اور عزت ملنے کا بھی ذکر ہے اور کوتاہیوں اور غفلتوں کے نتیجہ میں ملک اور عزت چھینے کا بھی۔ان چاروں چیزوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا بِيَدِكَ الْخَيْرُ یعنی اے اللہ ہر خیر تیرے ہی ہاتھوں میں ہے اس لحاظ سے دیکھا جائے تو تمام دنیوی نعمتیں اور ہر قسم کے روحانی افضال و انعامات خیر میں شامل ہیں۔خیر کا لفظ اُن تمام نعمتوں اور رحمتوں پر حاوی ہے جو انسان پر خدا کی طرف سے نازل ہوتی ہیں ان نعمتوں اور رحمتوں کے حصول کے لئے ہمیں دُعا کی تعلیم دی گئی ہے یہ اسلام ہی ہے جس نے چلتے پھرتے ، اُٹھتے بیٹھتے ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا ضروری قرار دیا ہے اور اس کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بہت سی دعا ئیں سکھائی ہیں۔قرآنی دعاؤں کے ساتھ ساتھ وہ سب دعائیں کرنا اور کرتے رہنا ہمارا فرض ہے۔اسی طرح رَبِّ إِنِّي لِمَا اَنْزَلْتَ إِلَى مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ ایک چھوٹی سی دعا ہے جو خود خدا نے ہمیں قرآن میں سکھائی ہے اسے آپ فارغ اوقات میں اور کام کرنے کے دوران بھی پڑھ سکتے ہیں آپ کو یہ دُعا بکثرت کرنی چاہیے اور اس طرح خدائی افضال وانعامات کا مورد بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔خطبہ جاری رکھتے ہوئے حضور نے مزید فر ما یا دوسری بات جو میں اس وقت کہنی چاہتا ہوں یہ ہے کہ ہمارے مسلمان ہونے یا نہ ہونے کے لئے کسی کے فتویٰ کی ضرورت نہیں یہ خیال کرنا احمقانہ بات ہے کہ جب تک حکومت ہمیں مسلمان تسلیم نہ کرے خدا بھی ہمیں مسلمان نہیں مانے گا۔ہمیں کسی کی سند کی ضرورت نہیں ہاں ہمیں فکر یہ کرنی چاہیے کہ ہمارا خدا ہم سے ناراض نہ ہو جائے۔اس سے کبھی بے وفائی نہیں کرنی اصل تو خدا ہے۔بنیادی حقیقت اس کا ئنات کی توحید باری تعالیٰ