خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 678 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 678

خطبات ناصر جلد هشتم ۶۷۸ ط خطبہ جمعہ ۶ / جون ۱۹۸۰ء اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے : - رَبِّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِي نُفُوسِكُمْ إِنْ تَكُونُوا صِلِحِينَ فَإِنَّهُ كَانَ لِلْاَوَّابِينَ غَفُورًا - (بنی اسراءیل : ۲۶) تمہارا رب تمہیں تمہارے نفسوں کو تمہارے ظاہر و باطن کو ، تمہارے اندرونے کو تمہارے خیالات کو ، تمہاری خواہشات کو ، تمہارے منصوبوں کو ، اور اسی طرح جب تم دوسروں سے چالاکیاں کرنے لگتے ہو تو تمہاری ان چالا کیوں کو سب سے بہتر جانتا ہے۔رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِي نُفُوسِكُمْ یہ ایک بڑا اہم رشتہ ہے جو ایک بندے کا اپنے ربّ سے ہے۔سب سے قریب کا تعلق مرد کا بیوی کے ساتھ اور بیوی کا خاوند کے ساتھ ہوتا ہے لیکن بعض لوگ بڑی باتوں میں بھی اور چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی اکثر چھپا جاتے ہیں۔بہت سی چیزیں خاوند بیوی سے چھپا جاتا ہے۔بد نیتی سے نہیں ، اس کو تکلیف دینے کے لئے نہیں، ویسے ہی چھپا جاتا ہے۔اسی طرح بعض چیزیں بیوی خاوند سے چھپا جاتی ہے بعض دفعہ حیا کی وجہ سے کوئی چیز نہیں بتاتی۔اس چھپانے میں بدنیتی نہیں ہوتی حیا ہوتی ہے۔الغرض سب سے قریب جو رشتہ ہے اس میں بھی نہیں کہا جا سکتا کہ خاوند بیوی کو کلی طور پر سمجھ رہا ہے اور نہ بیوی ہی یہ دعویٰ کر سکتی ہے۔بچہ ماں کی گود میں پلتا ہے لیکن وہ بھی بہت ساری باتیں اپنی ماں سے چھپا لیتا ہے۔گھر میں بھی بہت سی ایسی باتیں ہوتی ہیں جو بچوں سے چھپی ہوتی ہیں۔ماں باپ نہیں بتاتے انہیں وہ باتیں۔ان کا علم نہیں ہوتا انہیں۔جو دور کے رشتے ہیں ان میں تو بہت کچھ چھپا ہوتا ہے لیکن ایک ایسی ہستی ہے جس سے کوئی چیز بھی چھپی ہوئی نہیں ہر چیز اور ہر بات ہر وقت اس کی نگاہ اور علم میں ہے۔اگر یہ عظیم ہستی یعنی اللہ تعالیٰ صرف گرفت کی صفات اپنے اندر رکھتا، صرف سزا دینا اس کی صفت ہوتی معاف کرنا اس کی صفت نہ ہوتی یا اگر وہ علم رکھتا اور ربوبیت کی صفت اس میں نہ ہوتی تو ایسے علم کے نتیجہ میں انسان کو نقصان پہنچ جاتا۔فائدے بہت سارے نہ پہنچ سکتے لیکن قرآن کریم نے جس اللہ تعالیٰ کو اس کی کامل اور حسین صفات کے ساتھ ہمارے سامنے پیش کیا ہے ان صفات میں سے ایک بنیادی صفت اس کا رب ہونا ہے اور اسی صفت کو یہاں بیان کیا گیا ہے۔یہ فرما کر کہ ربُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِي نُفُوسِكُم یہ جو جانے والا ہے تمہاری ہر چیز کو، ظاہر و باطن