خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 666 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 666

خطبات ناصر جلد ہشتم ۶۶۶ خطبه جمعه ۲۵ اپریل ۱۹۸۰ء یہاں کامل انسان ہی مراد ہے۔قرآن کریم کی تعلیم جو تجھ پر نازل ہوئی خُلُقُهُ الْقُرْآنُ وہ اس لئے نہیں تھی کہ تو دکھ میں پڑے بلکہ اس تعلیم نے تیری ساری قوتوں اور استعدادوں کی کامل نشو ونما کر کے دوسرے پہلو کو بھی کامل کر دیا۔اگر مخاطب انسان ہوتا اور کہا جاتا مَا اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَی یعنی کوئی مخاطب ہوتا۔زید بکر کوئی ہوتا اور وہ عام درمیانے درجے کا انسان ہوتا تو شیطان یہ وسوسہ پیدا کر سکتا تھا کہ قرآن کریم نے صرف یہ دعویٰ کیا نا کہ جتنی طاقتیں محدود ، کم ، اس انسان کے اندر تھیں ان کی نشو و نما کا سامان قرآن کریم میں ہے۔جب ہر قوت اور استعداد کی نشو ونما کا سامان قرآن کریم میں ہے یہ دعویٰ کیا گیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے تو وہ انسان جن کی قوتیں اور استعداد میں بعض پہلوؤں سے ایک میں ، بعض اور پہلو دوسرے میں، بعض اور پہلو جو کم ہیں ان کو بھی کوئی خطرہ نہیں کہ ہماری نشو ونما نہیں ہوگی۔تمہاری استعدادوں کی بھی نشوو نما ہوگی۔جب ہر استعداد انسانی کی نشوونما کا سامان ہے تو تمہاری استعداد کی نشوونما کا بھی سامان ہے۔فرما یا اِلَّا تَذْكِرَةً لِمَنْ يَخْشَى دکھ کا سامان نہیں قرآن کریم میں بلکہ جس شخص کے دل میں اللہ تعالیٰ کی خشیت ہے اس کی راہنمائی اور ہدایت اور اس کی عزت کے قیام کا ، عزت کو بلند کرنے کا سامان ہے اس میں۔پھر فرمایا تَنْزِيلًا مِمَّنْ خَلَقَ الْأَرْضَ وَالسَّبُوتِ العُلیٰ یہ آیت بیچ میں ایک دوسری آیت اسی کی ترتیب میں آگئی تھی لتشقی کے ساتھ Explanation اس مضمون کو واضح کرنے کے لئے ویسے اندلنا کا تعلق تنزیلا سے ہے۔یہ قرآن کریم جو تجھ پر نازل کیا تجھے ہر دکھ سے بچانے والا ہے، دکھ کا سامان پیدا کرنے والا نہیں۔اس آیت میں دکھ کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ انسان اپنی کسی قوت اور استعداد کی صحیح نشو نما نہ کر سکے یہ دکھ ہے مثلاً آدمی بیمار ہوجاتا ہے تو وقتی طور پر جسمانی نشوونما میں فرق پڑ جاتا ہے۔جسمانی طاقت میں کچھ کمی پیدا ہو جاتی ہے۔جو قوتِ مدافعت کا لفظ طبیب استعمال کرتا ہے اس میں کمی پیدا ہو جاتی ہے تو دکھ کے سامان پیدا ہو جاتے ہیں۔اگر قوتِ مدافعت اپنے کمال میں ہو تو بیماری کا کوئی دکھ نہیں اور یہ جو قوتِ مدافعت کم ہوتی ہے اس کی ذمہ داری قرآن کریم کی تعلیم پر نہیں۔فرما یا اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ (الشعراء:۸۱) بیماری انسان اپنی