خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 667
خطبات ناصر جلد ہشتم ۶۶۷ خطبه جمعه ۲۵ ایریل ۱۹۸۰ء غفلت سے پیدا کرتا ہے اور شفا خدا تعالیٰ کا کلام اسے دے رہا ہے۔إِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِینِ اس میں یہ جو دوسرا حصہ ہے اس میں دو پہلو ہیں۔ایک خدا تعالیٰ کے حکم سے شفا ملتی ہے۔ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی ہدایت اور راہنمائی اور قرآن کریم کی تعلیم سے شفا ملتی ہے۔انسان صحت جسمانی کامل طور پر اچھی رکھ سکتا ہے اگر قرآن کریم کے بتائے ہوئے اصول پر گامزن رہے۔قرآن کریم نے ہمیں یہ اصول بتایا کہ متوازن غذا (Balanced Diet) کھاؤ۔جو کھانے کی مختلف چیزیں ہیں ان میں ایک توازن پیدا کرو۔قرآن کریم نے یہ بتایا کہ تَنْزِيلًا مِمَّنْ خَلَقَ الْأَرْضَ وَالسَّبُوتِ العُلى جو میری مخلوق ہے اس کا علم حاصل کرو۔قرآن کریم نے یہ بتایا کہ اگر تم کوشش کرو گے تو لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَطی (النجم :۴۰) تمہیں پتا لگ جائے گا کہ متوازن غذا کسے کہتے ہیں۔یہ توازن جو ہے یہ آگے دو طرح کا ہے۔ایک جسم کا توازن وزن کے لحاظ سے ، مقدار غذا کے ساتھ یہ بھی ایک بڑا ز بر دست توازن ہے۔اب یہ گھوڑے وغیرہ ہیں ان کی تو متعلق انہوں نے اچھی خاصی ترقی کر لی ہے اس علم میں۔وہ کہتے ہیں کہ اتنے وزن کا گھوڑا ہوگا تو تم نے اس کو اتنا راشن دینا ہے۔اتنا ہوگا تو اتنا۔انسانی وزن کا انسانی غذا سے تعلق ہے۔توازن ہے انسان کے جسمانی غدود کی کارکردگی اور غذا سے۔اس لحاظ سے تحقیق کرنے والوں نے انسانی جسم کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ایک وہ جو کیلریز (Calaries) انہوں نے ایک پیمانہ بنایا ہوا ہے کہ یہ چیز اتنی کیلریز پیدا کرتی ہے۔کیلریز گرمی کا یونٹ (اکائی) ہے۔مثلاً وہ یہ کہیں گے کہ مچھلی دو چھٹانک ہو تو اس میں ستر کیلریز ہیں۔اور مگ دو چھٹا نک ہو تو اس میں تین سواتی کیلریز ہیں۔تو بعض جسم ہیں جو زیادہ کیلریز Burn کرتے ہیں۔ان کے غدود اس طرح کام کرتے ہیں جو کھاتے رہیں وہ شفیع اشرف صاحب کی طرح دبلے ہی رہیں گے جو جتنا مرضی کھا لیں۔اور بعض ایسے ہیں جو کم کھائیں گے اور موٹے ہو جائیں گے۔ہمارے ہاں کالج میں ایک کارکن کام کرتا تھا وہ بغیر کسی جھجک کے اور تکلف کے دس پندرہ بیس روٹیاں کھا لیتا تھا۔سیر دوسیر پکا پلاؤ کھا جاتا تھا اور بعد میں زردے کی دو پلیٹیں اور اس کا پیٹ ایک دوشیزہ کی طرح کمر کے ساتھ لگا ہوا تھا۔پتا ہی نہیں لگتا تھا کہ یہ کھانا جا تا کہاں ہے۔