خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 646
خطبات ناصر جلد هشتم ۶۴۶ خطبه جمعه ۱۴ / مارچ ۱۹۸۰ء موڑ کے اوپر اگر جماعت نے غفلت کی اور یہ جو بڑا عظیم منصو بہ تعلیمی میدان کا میں نے جماعت کے سامنے رکھا ہے اس سے ذرا بھی بے پرواہی کی تو جماعت بڑی تکلیف اٹھائے گی۔اس واسطے ہر گھرانے کا فرض ہے کہ وہ ایک ذہن بھی ضائع نہ ہونے دے۔پہلے تو آپ کہتے تھے جی بچہ بڑا ذہین ہے کیا کریں پیسے نہیں۔اب آپ یہ کہتے ہیں کہ بچہ بڑا ذہین ہے اور جماعت کہتی ہے ہمارے پاس پیسے ہیں ہم اسے پڑھائیں گے۔پھر کیوں آپ اس طرف سے بے توجہی کریں گے۔اس کا ایک حصہ جس کا میں نے اعلان کیا تھا وہ بھی بڑا ضروری ہے اس عمر کے دائرے کے اندر جو میٹرک تک کی عمر ہے ہر احمدی جو آئندہ میٹرک کی عمر کو پہنچے وہ میٹرک کا امتحان بھی پاس کرے۔یہ سکیم براڈ بینڈ (Broad Based) ہے۔میں علم کی بڑی چوڑی بنیاد رکھنا چاہتا ہوں وسعت کے لحاظ سے۔جب تک یہ وسعت نہیں ہوگی اس وقت تک رفعت بھی نہیں ہوگی۔جتنا اونچا مینار لے جانا ہو اتنی مضبوط بنیاد رکھی جاتی ہے ہر بچے کو خواہ وہ تھر ڈ ڈویژن میں پاس ہوتا ہے میٹرک پاس ہونا چاہیے۔اگر آپ اگلے دس سال کے اندر اس مقصود کو حاصل کر لیں اس ٹارگٹ کو آپ حاصل کر لیں تو دنیا میں انقلاب عظیم آجائے گا۔آپ کی دنیا میں اور آپ کے اردگرد کی دنیا میں بھی اور اس کے بغیر ہم اس ذہن کو اٹھا بھی نہیں سکتے جسے ہم نے اٹھا کے آگے لے جانا ہے۔بہت سارے بچے اگر آپ نے آٹھویں میں ان کے ذہن مار دیئے اگر پانچویں میں آپ نے ان کے ذہن مار دیے وہ دسویں کے بعد آگے کیسے جائیں گے۔یہ خیال غلط ہے کہ ذہن کا پتہ پہلے دن سے لگ جاتا ہے۔یہ صحیح ہے کہ ۶۰ ، ۷۰ فیصد ایسے بچے ہیں جو ابھی سکول ایج (School Age) کے بھی نہیں ہوتے یعنی اپنی عمر کے لحاظ سے ایسے نہیں ہوتے کہ سکول میں داخل ہو سکیں ان کے ذہنوں کا پتہ لگتا ہے ہوشیار ہوتے ہیں لیکن میں تو بڑا لمبا عرصہ رہا ہوں اس میدان میں۔مجھے ایک ایسے طالب علم کا علم ہے جس نے انٹر میڈیٹ میں تھرڈ ڈویژن لی۔جس نے بی۔ایس سی میں سیکنڈ ڈویژن لی اور اسی لڑکے نے ایم۔ایس۔