خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 639 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 639

خطبات ناصر جلد ہشتم ۶۳۹ خطبه جمعه ۱۴ / مارچ ۱۹۸۰ء جلسہ سالانہ پر جن وظائف کا اعلان کیا تھا وہ ادائے حقوق کے وظائف ہیں خطبه جمعه فرموده ۱۴ مارچ ۱۹۸۰ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔گزشتہ جلسہ سالانہ پر میں نے جماعت کی تعلیمی پالیسی کا اعلان کیا تھا۔اپنی طرف سے تو میں نے کافی وضاحت کر دی تھی مگر معلوم ہوتا ہے کہ پوری طرح وضاحت نہیں ہوئی جماعت کے طلباء پر بھی اور ایک کمیٹی میں نے بنائی تھی اس پر بھی۔دنیا میں عام طریق یہ ہے کہ انعامی وظائف دیئے جاتے ہیں۔انعامی وظائف کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص جو ذہین ہے اور یو نیورسٹی میں فرسٹ آ جاتا ہے۔مثلاً ایم۔ایس سی فزکس میں یا بی۔ایس۔سی میں یا بی۔اے میں یا ایف۔اے میں یا ایف۔ایس۔سی میں تو یو نیورسٹی کی طرف سے اسے وظیفہ ملتا ہے قطع نظر اس کے کہ اس کے خاندان کے مالی حالات کس قسم کے ہیں۔اگر ایک کروڑ پتی کا بیٹا ذہین ہو اور فرسٹ آ جائے تو اسے وظیفہ دے دیتے ہیں۔یہ ضرورت کے مطابق یا استحقاق کے مطابق اسلامی اصطلاح میں وظیفہ نہیں۔یہ انعامی وظیفہ کہلاتا ہے۔میں نے جن وظائف کا اعلان کیا تھا جلسہ پر وہ انعامی وظائف نہیں تھے ادائے حقوق کے وظائف تھے۔