خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 636 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 636

خطبات ناصر جلد هشتم ۶۳۶ خطبہ جمعہ ۷ / مارچ ۱۹۸۰ء تمہیں اللہ تعالیٰ نے اتنی ہمت دی ہے اور بھی ہمت دے۔اور جو اس کے بعد کے ہیں مثلاً پی۔ایچ۔ڈی کہلاتا ہے یا اور یعنی پوسٹ ایم۔اے، ایم ایس سی یا دوسرے ان کے مقابلے میں جو انجینئر ہیں ان کے بعد کی جو ڈگریاں یہاں لینے والے ہیں اگر وہ ٹاپ کے سات میں آجائیں گے تو ان کو بھی یہ انعام ملے گا۔تو اب انشاء اللہ میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں میرے لئے کوئی مشکل نہیں نظر آتی کہ میں نے جو وعدہ کیا ہے وہ پورا نہ کروں اور آپ دل میں یہ عہد کریں اور آپ کے بچے بھی عہد کریں کہ ہم وعدہ پورا کریں گے یعنی خط لکھیں گے۔اس سال ہر بچہ امتحان دینے والا جو ہے نا اُس کا خط مجھے ملنا چاہیے۔چاہے وہ دس ہزار خط ہوں مجھے بڑی خوشی ہوگی ان کا جواب دستخطوں سے میں دوں گا اور اس ترتیب کے ساتھ ان کو تحفے کتابوں کے بھی دوں گا۔یہ اس سکیم سے مختلف ہے جس کا میں نے اعلان کیا تھا کہ وظیفہ دیں گے پڑھائیں گے۔ایک میں نے یہ اعلان کیا ہے کہ ہر طالب علم یعنی School going Age کا بچہ ہمارا جو ہے نا وہ دسویں سے پہلے تعلیم نہیں چھوڑے گا۔ایک ایسی جماعت پیدا ہو جانی چاہیے پاکستان میں جس کا اپنے Age Group کے لحاظ سے کوئی بھی فردایسا نہیں ہے جو میٹرک پاس نہیں ہے۔اور یہ بڑی چیز ہے، سوچیں گھر میں جا کر بہت بڑی چیز ہے۔اگر ہم اس میں کامیاب ہوجائیں اور ساری جماعت کوشش کرے کہ کامیاب ہونا ہے ہم نے یعنی اس میں یہ شرط نہیں ہے کہ وہ تھرڈ ڈویژن میں پاس ہوتا ہے یا اچھے نمبر لیتا ہے کہ اگر ایک نمبر کم ہوتا تو وہ فیل ہو جا تا یعنی کوئی فرق نہیں۔میٹرک ہونا چاہیے اس کو اور اس کے لئے ضروری خرچ جس کی اس کے والدین کو طاقت نہیں وہ جماعت کو کرنا چاہیے کیونکہ یہ بہت بڑا ہے منصو بہ اور جو میں نے اعلان کیا Genius ہو یا ٹاپ کے دماغ ہوں ان کو ہم نے سنبھالنا ہے اس سے یہ منصوبہ مختلف ہے اور نوعیت کا ہے کیونکہ ہر دماغ کو میٹرک سے پہلے ہم نے سنبھالنا ہے لیکن اپنے اثر کے لحاظ سے اور اپنی افادیت کے لحاظ سے یہ کم اہمیت کا منصوبہ نہیں اور وسعت کے لحاظ سے اس سے بہت بڑا منصوبہ ہے۔آپ کو میں نے اب اپنی تجربہ گاہ بنالیا ہے۔یہ کراچی کے تین ضلعے اور دوسرے تین کل چھ ضلعے