خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 621 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 621

خطبات ناصر جلد ہشتم ۶۲۱ خطبه جمعه ۲۹ فروری ۱۹۸۰ء کی ہر شے سے ذاتی تعلق رکھا تا کہ ان کی صحیح نشو و نما ہو اور تمہاری صحیح خدمت ہو سکے اور اگر یہ نہ ہوتا۔اگر ایک لحظہ کے لئے بھی کسی ایک شے یا سب اشیاء کا خدائے الْحَی کے ساتھ تعلق نہ رہے۔ٹوٹ جائے تو ہلاکت آ جائے۔فنا ہو ان چیزوں کی اور اگر خدائے اَلْقَيُّوْم کے ساتھ ان کا تعلق نہ رہے تو وہ قائم نہ رہے اپنی اس شکل میں۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ ہر چیز کے ساتھ ذاتی تعلق رکھا میں نے ان کی صحیح نشو نما کی یعنی صحیح سے مراد یہ نہیں کہ ہم نے فیصلہ کرنا ہے جس غرض کے لئے اللہ نے ان کو پیدا کیا اشیاء کو اس غرض کو پورا کرنے کے لئے جس قسم کی نشو ونما کی ضرورت اور جس کے نتیجہ میں ان کا اپنے کمال کو پہنچنا تھا وہ اس کو دی ہے۔تمہارے لئے کیا ہے نا اس لئے تمہیں یہ ماننا چاہیے کہ اگر تم نے ناشکری کی کفر اور ناشکری ہم معنی استعمال ہوئے ہیں بہت جگہ ، اصل میں ہیں ہی یہ ہم معنی لیکن یہ ذرا باریک ہیں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا اس وقت۔تو اتنی بڑی کائنات ، ہمارا تصور بھی اپنے احاطہ میں نہیں لاسکتا اس وسعت کو اور ہر چیز کے اندر اتنی وسعت ، میں نے بتا یا نا، انسانی جسم کے اندر اتنی وسعت ہے کہ انسان خود اپنے جسم کی تفاصیل ہیں ان کا بھی احاطہ نہیں کر سکا اپنے علم کے ساتھ اور اپنی تحقیق کے ساتھ۔اس لئے وَاتَّقُوا الله تمہیں وارنگ (Warning) دیتا ہوں کہ تقویٰ، خدا سے ڈرتے ڈرتے زندگی گزارو۔وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ خدا تعالیٰ یعنی یہاں جوڑ تقویٰ اور اَنَّ اللهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ کے ساتھ اس کو ملایا ہے۔اس واسطے میں نے اس مضمون میں بیان کیا اس میں جہاں مجھے یا آپ کو مخاطب کیا خدا نے ، اس کے ساتھ یہ آیت ملائیں، کہ ہر چیز کا علم رکھنے والا تھا، پھر تمہارا خادم بنایا تھا ہر چیز کا مقصد پیدائش یہ تھا کہ تمہاری خدمت کرے، ہر چیز کے ساتھ ذاتی تعلق رکھا میں نے ، خدا کہتا ہے اور متصرف بالا رادہ ہوکر ہر ایک چیز کی صحیح نشوونما کی تاکہ تمہارے کام آسکے اور تمہیں یہ کہا کہ اپنی صحتیں بھی ٹھیک رکھو، اپنے ذہنوں میں بھی چلا پیدا کر وہ علم کی روشنی حاصل کرو، اپنے اخلاق پہ بھی اللہ تعالیٰ کی صفات کا اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کا رنگ چڑھاؤ۔روحانی رفعتوں کو حاصل کرو اور میرے قُرب کو پاؤ اور میری رضا تمہارے نصیب میں ہو۔اگر تم اتنا کچھ حاصل کرنے کے بعد بھی ناشکری کرو گے تو بڑی خطرناک بات ہوگی۔وَاتَّقُوا اللہ اس واسطے تقویٰ اختیار کرو۔اللہ سے ڈرتے رہو، اپنے