خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 620
خطبات ناصر جلد ہشتم ۶۲۰ خطبه جمعه ۲۹ فروری ۱۹۸۰ء والا رب، فلق جو لفظ ہے اس میں انقلاب کا مفہوم ہے یعنی اندھیرے کے بعد جو روشنی نمودار ہوتی ہے، ایک سیکنڈ میں اندھیرا دور ہو جاتا ہے روشنی آجاتی ہے۔یہ انقلابی تبدیلی ہے۔فلق کے معنی میں انقلاب کا مفہوم پایا جاتا ہے اور ر بوبیت کے مفہوم میں ارتقاء کا پایا جاتا ہے مفہوم۔تو انقلاب اور ارتقاء یہ دونوں ضروری ہیں۔اشیاء کے وجود اور زندگی اور ان کے افادہ اور استفادہ کے لئے۔ایک دفعہ یوگوسلاویہ کے ایمبیسیڈر سے مجھے ملنے کا اتفاق ہوا تو ملنے سے پہلے میں نے تھوڑا ان کے متعلق علم حاصل کیا۔میں نے ان کو کہا کہ آپ کے ملک میں جو اس وقت موجودہ نظامِ سیاست ہے وہ۔۔لیکن اس کے بعد جن ادوار میں سے گزرا ہے یہ وہ انقلابی نہیں تھے وہ ارتقائی تھے۔وہ حیران ہو کے میرے منہ کو دیکھنے لگا۔میں نے اس کو پھر بتایا میں نے کہا دیکھیں چند سال کے بعد اپنے کانسٹی ٹیوشن میں، دستور میں یہ تبدیلیاں کیں اور وہ انقلاب کے ذریعہ نہیں کی۔آپ نے مشورے کئے ، سر جوڑے ان میں تبدیلیاں کیں۔پارلیمنٹ تھی آپ کی نمائندے تھے، جس شکل میں بھی تھے۔پھر اس کے بعد ان کی تین دفعہ ان کی تبدیلیاں ہو چکی ہیں، میں نے کہا اس سن میں ہو ئیں ، پھر اس سن میں ہوئیں ساری یہ تبدیلیاں اس واسطے زبر دست تبدیلی چھینج جو ہے وہ انقلاب کو چاہتا ہے اور وہ بتارہا ہوتا ہے کہ یعنی تہ و بالا کردی گئی چیز۔یہ ہے انقلاب لیکن پھر جس غرض کے لئے وہ انقلاب لایا گیا ہے۔اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے انقلاب کی نہیں ضرورت۔ارتقائی مدارج ربوبیت کی ضرورت ہے۔تو رب الفلق میں ہمیں بتایا گیا کہ خدا تعالیٰ کی صفات کے جلوں میں یہ دونوں چیزیں تمہیں نظر آئیں گی۔اس کی ایسی صفات اور صفات کے ایسے جلوے جو انقلابی رنگ رکھتے ہیں اپنے اندر اور اس کی صفات کے ایسے جلوے جور بوبیت کا رنگ رکھتے ہیں اپنے اندر اور ہر زندگی کے ساتھ حقیقتا یہ لگے ہوئے ہیں مثلاً ایک بچہ ماں کے پیٹ میں ایک وقت تک اس کے اندر کوئی چیز نہیں ہوتی۔قرآن کریم نے خود کہا کہ پھر ہم نے اس کے اندر روح پیدا کر دی وہ جو پیدائش کی روح ہے اس کو قرآنِ کریم کی اصطلاح میں آمر کے نتیجہ میں جو چیز پیدا ہو وہ انقلابی ہوتی ہے اور جور بوبیت کے نتیجہ میں تبدیلیاں آئیں وہ خلق ہے۔انسان کو کہا کہ یہ ہستی جس نے اس ساری کائنات کو تمہاری خدمت کے لئے پیدا کیا اور کائنات