خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 46
خطبات ناصر جلد هشتم ۴۶ خطبہ جمعہ ۲ فروری ۱۹۷۹ء میں کوئی ایسی چیز ہے جو ذہن کی پرورش کرتی ہے اور بھینس کے مقابلہ میں گائے کے دودھ میں وہ چیز زیادہ ہے اور بچے کے لئے دودھ پینا ضروری ہے کیونکہ جس طرح یہ اس کے دوسرے جسمانی اعضاء کی نشو ونما کی عمر ہے اسی طرح یہ اس کے ذہن کی نشو و نما کی بھی عمر ہے۔ہمارے ملک میں ایک مشکل ہے اور اسی کے متعلق میں نے ان سے سوال بھی کیا تھا۔میں نے پوچھا کہ کیا تم دودھ پیتے ہو؟ تو مجھے جواب تسلی بخش نہیں ملا۔میں نے انہیں کہا کہ میں اس لئے یہ سوال کر رہا ہوں کہ آج کل دودھ کی بجائے کچی لسی مہیا ہے۔دودھ تو اسے کہتے ہیں جو بھینس یا گائے کے تھنوں سے نکلے اور خالص شکل میں ہمیں ملے لیکن اگر دودھ بیچنے والے اس میں ۶۰ ر فیصد پانی کی ملاوٹ کر دیں تو وہ دودھ اس شکل میں تو نہ رہا جس میں خدا تعالیٰ نے انسان کی صحت کو قائم رکھنے کے لئے اسے پیدا کیا تھا بلکہ وہ تو کچی لسی بن گیا۔( کچی لسی ہمارا محاورہ ہے جسے سب جانتے ہیں ) کراچی کے ایک عزیز دوست نے مجھے ایک لطیفہ سنایا انہوں نے بتایا کہ ان کے قریب گوجر رہتے تھے انہوں نے ان کو کہا کہ تم جو مرضی قیمت لے لو مگر ہمیں بچوں کے لئے خالص دودھ چاہیے وہ ہمیں دے دیا کرو۔تو انہوں نے کہا کہ خالص دینا تو بڑا مشکل ہے ہم یہ کر سکتے ہیں کہ اٹھنی فی سیر زیادہ لے لیں اور پانی ۶۰ فیصد کی بجائے صرف ۴۰ فیصد ملا یا کریں۔بڑے پیمانہ پر یہ انتظام تو خدا تعالیٰ ہی کر سکتا ہے کہ قوم کو یہ عقل دے کہ خدا تعالیٰ کی نعمتوں میں اپنے ہاتھ سے ایسی ملاوٹ نہ کیا کریں جس سے ان کی افادیت کم ہو جائے یا نقصان دہ بن جائیں کیونکہ پانی ملانے والے ضروری نہیں کہ صاف پانی ملائیں بعض دفعہ جو ہڑ کا پانی چھپڑوں کا پانی ملا دیتے ہیں جن میں بیماریوں کے کیڑے ہوتے ہیں ، مضر صحت پانی ہوتا ہے وہ دودھ کے اندر ملا دیا جاتا ہے۔بہر حال اس وقت تو مجھے اپنے بچوں سے غرض ہے میں ہر خاندان سے یہ کہوں گا اور چونکہ میں جانتا ہوں کہ بہت سے ایسے بھی ہو سکتے ہیں جو دودھ پلانے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں اس لئے میں صرف ہر خاندان کو نہیں بلکہ ہر خاندان کے ساتھ ہر جماعت کو کہوں گا کہ وہ یہ دیکھیں کہ ہمارے بچوں کو جن کی چھوٹی عمر ہے اس وقت میں ویسے ے سے ۱۵ سال کے بچوں کا ذکر کر رہا ہوں لیکن دودھ پینے کے لحاظ سے تو پیدائش کے وقت سے اس کو اچھا دودھ ملنا چاہیے ان کو بھی