خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 47 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 47

خطبات ناصر جلد ہشتم ۴۷ خطبہ جمعہ ۲ فروری ۱۹۷۹ء اس میں شامل کر لیں کہ ہمارے بچوں کو اچھا دودھ ملے اور ملے۔یعنی ایک تو دودھ ملے دوسرے اچھا ملے۔جتنا کوئی پی سکتا ہے پیئے۔ایک بچے سے میں نے پوچھا کہ تم بتاؤ تمہارے خیال میں انسان زیادہ سے زیادہ کتنا دودھ پی سکتا ہے تو بڑے سوچ کے بعد اس نے کہا آدھ سیر۔میں نے اس کو کہا ہمارے ایک سندھ میں منشی تھے وہ ایک جگہ دعوت پر گئے۔میزبان بھول گیا کہ انہوں نے دعوت کی ہوئی ہے اور گھر پر نہیں تھا۔انہوں نے گھر والی سے پوچھا کہ تمہارے ہاں بھینسیں ہیں کتنا دودھ تمہارے پڑا ہے۔وہ مٹی کے برتن ہوتے ہیں نا جن میں زمیندار دودھ رکھتے ہیں تو انہوں نے کہا تین برتنوں میں دودھ ہے کوئی ہوگا ہیں سیر کے قریب کم از کم۔تو انہوں نے کہا اچھا پھر کھانا تو میں تمہارے ہاں نہیں کھا سکتا کیونکہ تم نے تیار ہی نہیں کیا تو یہ دودھ پی لیتا ہوں۔انہوں نے ایک چاٹی اٹھائی اور ( عجیب نام ہے اس کا اس وقت ذہن سے نکل گیا ) اور وہ پی گئے پھر دوسری اٹھائی پی گئے پھر تیسری اٹھائی پی گئے کوئی ہمیں سیر دودھ انہوں نے پی لیا اور کہا جب تمہارے میاں آئیں کہہ دینا کہ میرا قرض ہے ان پر۔انہوں نے مجھے دعوت پر بلایا تھا اور کھانا نہیں کھلایا۔تو ایسے استثناء بھی ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ کم از کم آدھ سیر دودھ تو ہر بچے کو ملنا چاہیے اور کتنا ملنا چاہیے اس کا انحصار، آدھ سیر سے جو زائد جتنا ملنا چاہیے اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ استطاعت ہے اس کے ماں باپ کو آدھ سیر سے زیادہ دودھ پلانے کی یا نہیں۔دوسرے یہ کہ اس میں یہ طاقت ہے یا نہیں کہ وہ آدھ سیر سے زیادہ دودھ ہضم کر سکتا ہے۔کیونکہ اس کو اتنا ، اس سے زیادہ تو نہیں ملنا چاہیے جسے وہ ہضم ہی نہیں کر سکتا۔صحت کے لئے بنیادی طور پر دو چیزوں کی ضرورت ہے صحیح غذا اور غذا کا ہضم۔اگر آپ کسی بچے کو یا بڑے کو اس کے مناسب حال بہترین غذا دے دیں لیکن اس کی زندگی کچھ اس قسم کی ہو کہ وہ اس غذا کو ہضم نہ کر سکے، کھانے کا کوئی فائدہ نہیں۔وہ تو فضلے میں باہر نکل جائے گا سارا کچھ۔ایک امریکہ میں بہت ریسرچ ہوئی ، بہت بڑی ریسرچ۔وہ تو بڑی امیر قوم ہے وہ جو ڈاکٹر ریسرچ میں لگ جائیں ان کو بڑے پیسے مل جاتے ہیں ریسرچ کے لئے۔دس پندرہ ڈاکٹر پندرہ